آم کی قدر بڑھائیں، کاشتکار کی قسمت سنواریں: خام مال سے لے کر قیمتی مصنوعات تک کا سفر.

آم پاکستان کی سب سے پسندیدہ اور مقبول فصلوں میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے کئی علاقوں میں آم کی کاشت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آندھی میں گرے ہوئے آم کی قیمت صرف 80 روپے فی من ہوتی ہے؟ جبکہ اگر اسی آم کو اچار، مربا یا دیگر قیمتی مصنوعات میں بدلا جائے تو اس کی مالیت 80 ہزار روپے فی من تک جا سکتی ہے! یہ ایک ایسا موقع ہے جو نہ صرف کاشتکاروں کی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ ملک کی برآمدات میں بھی زبردست اضافہ کر سکتا ہے۔

خام آم اور اس کی محدود قیمت
عام طور پر آم کا سیزن آتے ہی کاشتکاروں کو مارکیٹ میں آم بیچنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ آم زیادہ مقدار میں آجاتا ہے اور قیمتیں نیچے گر جاتی ہیں۔ کئی بار آندھی، بارش یا دیگر قدرتی عوامل کی وجہ سے آم گرتے ہیں اور پھر ان کی قیمت بہت کم رہ جاتی ہے، جو کاشتکار کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کی طاقت
اسی خام آم کو اچار، جوس، مربا، خشک آم، پکا ہوا آم، اور دیگر مصنوعات میں تبدیل کر کے اس کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اچار بنانا ایک ایسی صنعت ہے جس میں خام مال کی قیمت کو بڑھا کر معیشت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اچار میں آم کی قیمت 80 روپے من سے بڑھ کر 80 ہزار روپے من تک پہنچ سکتی ہے، جو ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔

کاشتکاروں کو مواقع فراہم کرنا کیوں ضروری ہے؟
اگر کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی، پروسیسنگ یونٹس، اور مارکیٹنگ کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنی پیداوار کو صرف بیچنے کے بجائے اسے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے قیمتی مصنوعات میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی بڑھے گی بلکہ ان کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہوگا۔

ایکسپورٹ کوالٹی آم اور ملک کی معیشت
پاکستان میں آم کو عالمی معیار کے مطابق تیار کر کے برآمد کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر پروسیسنگ یونٹس قائم کیے جائیں اور بین الاقوامی مارکیٹ کے معیار کے مطابق مصنوعات تیار کی جائیں تو یہ ملک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرے گا اور کاشتکاروں کی زندگی بدل دے گا۔

حکومت اور نجی شعبے کا کردار
حکومت کو چاہیے کہ وہ کاشتکاروں کو سستی سہولیات، تربیت، اور مالی امداد فراہم کرے تاکہ وہ ویلیو ایڈیشن کے ذریعے اپنی پیداوار کی قدر بڑھا سکیں۔ نجی شعبہ اور سرمایہ کار بھی اس میدان میں سرمایہ کاری کریں تاکہ زراعت کو ایک جدید اور منافع بخش صنعت میں بدلا جا سکے۔
آم کی پیداوار کا صرف خام مال بیچنا کاشتکاروں کے لیے محدود آمدنی کا باعث ہے، مگر ویلیو ایڈیشن کے ذریعے اس کی مالیت ہزار گنا بڑھائی جا سکتی ہے۔ یہ موقع پاکستان کی زراعت اور معیشت کے لیے بہت بڑا تحفہ ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں