“ایک طرف 35 روپے کی واہ واہ، دوسری طرف 2300 ارب کا خفیہ وار!”
حکومتِ وقت کی حالیہ پالیسی تبدیلیاں بظاہر ریلیف اور سہولت کے لبادے میں لپٹی ہوئی ہیں، لیکن جب حقیقت کی پرتیں کھلتی ہیں تو نظر آتا ہے کہ عوام کو “ریلیف” کے نام پر مزید قرضوں اور سود کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔
🔹 خبر نمبر 1: پی ٹی وی فیس ختم — ریلیف یا سراب؟
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ بجلی کے بلوں میں شامل ماہانہ 35 روپے پی ٹی وی فیس ختم کی جا رہی ہے، جس کا اطلاق جلد کیا جائے گا۔ اس اعلان پر حکومتی وزراء، ترجمان اور سوشل میڈیا ٹیمیں خوب تالیاں بجاتی نظر آئیں۔
✅ عوام کو کیا ملا؟
ہر ماہ 35 روپے کی بچت۔
ایک نفسیاتی ریلیف کہ کم از کم ایک غیر ضروری چارج ختم ہوا۔
🔸 خبر نمبر 2: 2300 ارب روپے کا گردشی قرضہ — واپسی عوام کی جیب سے
دوسری طرف وفاقی حکومت نے بجلی کے شعبے میں موجود 2300 ارب روپے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے نجی بینکوں سے بھاری قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور یہ رقم کس سے نکالی جائے گی؟
⚠️ “سورس آف فنڈز”: عوام!
قرض پر لیا گیا سود 3.65 روپے فی یونٹ کی صورت میں بجلی کے بلوں میں شامل کر دیا جائے گا۔
یعنی ایک عام صارف جس کی ماہانہ کھپت 300 یونٹ ہے، وہ صرف سود میں 1095 روپے ماہانہ اضافی ادا کرے گا۔
اس کے علاوہ اصل قرض اور دیگر سرچارجز الگ ہوں گے۔
💡 سچ کیا ہے؟
یہ وہی پرانی معاشی پالیسی ہے:
“بجلی چوروں کی حفاظت، ایماندار صارفین کی سزا”
لائن لاسز، بجلی چوری، اور ادارہ جاتی نااہلی کا خمیازہ اس طبقے کو بھگتنا ہے جو بل وقت پر ادا کرتا ہے۔
حکومت نے خود کو بینکوں کا مقروض بنایا اور اس کا بوجھ براہِ راست عوام پر ڈال دیا۔
35 روپے کی خوش خبری دراصل عوام کی توجہ ہٹانے کی نفسیاتی حکمت عملی ہے، جب کہ حقیقت میں انہیں ہزاروں روپے کا اضافی بوجھ تھما دیا گیا ہے۔ اسے کہتے ہیں:
“چینی کی ایک گولی دے کر پورا جسم کڑوا کر دینا!”



