“ٹرمپ کا یوٹرن: ایران سے بات چیت؟ ہرگز نہیں!”

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے بات چیت سے متعلق تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کر دی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی اور بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ٹرمپ یا ان کے قریبی ساتھی پس پردہ ایران سے کسی نہ کسی سطح پر رابطے میں ہیں تاکہ آئندہ انتخابات سے قبل خارجہ پالیسی کے کچھ راستے کھلے رکھے جا سکیں۔ تاہم ٹرمپ نے ان افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایران سے بات چیت نہیں کر رہے بلکہ ان کا ایسا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔
امریکہ اگلے ہفتے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ملاقات کرے گا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان .
ٹرمپ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں ان خبروں کو “جعلی” اور “پروپیگنڈا” قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ایک ناکام ریاست ہے اور اُس کے ساتھ نرمی برتنا امریکی مفادات کے خلاف ہوگا۔ ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی پر اب بھی قائم ہیں، جو انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے خلاف اپنائی تھی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان دراصل ٹرمپ کے انتخابی بیانیے کا حصہ ہے۔ وہ اپنے قدامت پسند ووٹرز کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی پالیسیوں میں کوئی لچک یا مفاہمت شامل نہیں ہوگی، خاص طور پر ان ممالک کے حوالے سے جنہیں وہ امریکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ بیان نہ صرف اُن کے سیاسی موقف کی تصدیق کرتا ہے بلکہ یہ عندیہ بھی دیتا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو ایران کے ساتھ تعلقات مزید سخت ہوں گے، نہ کہ بہتر۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں