“پوری قوم اسٹیبلشمنٹ، نوازشریف اور زرداری کی پرانی لوٹ مار والی سیاست سے تنگ آ چکی ہے — اب فیصلہ نیا پاکستان یا پرانا نظام!”

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بتا رہی ہے کہ عوام اب پرانی سیاسی جماعتوں سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ہے۔ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت، دوسری طرف نوازشریف اور زرداری جیسے آزمائے ہوئے سیاستدان جنہوں نے کئی دہائیوں تک قوم کو جھوٹے وعدوں، کرپشن اور مفادات کی سیاست میں الجھائے رکھا۔ ان کے ادوار میں نہ صرف مہنگائی بڑھی بلکہ ادارے بھی کمزور ہوئے، معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچی اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی۔

اب قوم کے سامنے دو ہی راستے بچے ہیں:

پرانا نظام — جہاں اسٹیبلشمنٹ، کرپٹ سیاستدان اور طاقتور اشرافیہ اپنی مرضی سے فیصلے کریں۔

نیا وژن — جو عمران خان اور اُن جیسے غیر روایتی سیاستدانوں سے جُڑا ہے، جیسے جاوید ہاشمی جنہوں نے ماضی میں اصولوں کی سیاست کی قیمت چکائی۔

عوام کی آواز واضح ہے: وہ تبدیلی چاہتے ہیں، خودمختار ادارے، انصاف پر مبنی نظام، اور ایسی قیادت جو ملک کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے۔ عمران خان کی مقبولیت، چاہے جیل میں ہوں یا باہر، یہی پیغام دے رہی ہے کہ قوم اسٹیبلشمنٹ کی بنائی گئی بساط پر نہیں کھیلنا چاہتی۔

اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے — پرانے چہروں کا انتخاب یا نئے پاکستان کا خواب!

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں