قزاقستان: چہرہ ڈھانپنے پر پابندی، 70 فیصد مسلم آبادی میں غم و غصہ.
قزاقستان، جہاں کی تقریباً 70 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، حالیہ دنوں میں حکومتی پالیسیوں کے باعث مذہبی آزادی پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے عوامی مقامات پر چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد مختلف طبقات خصوصاً مذہبی خواتین میں شدید ناراضگی اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
■ حکومتی مؤقف:
قزاقستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام “سیکولر شناخت” کے تحفظ اور “سیکیورٹی خدشات” کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپنے سے نہ صرف شناخت میں رکاوٹ پیش آتی ہے بلکہ بعض شدت پسند عناصر بھی اس عمل کا سہارا لیتے ہیں۔
■ عوامی ردعمل:
متعدد خواتین نے اس فیصلے کو اپنی مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر “میرا حجاب، میرا حق” جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے احتجاج جاری ہے۔
کئی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور سماجی زندگی میں بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
■ علماء اور ماہرین کی رائے:
مقامی اور بین الاقوامی مذہبی اسکالرز نے اس اقدام کو قزاقستان کے آئین میں دی گئی مذہبی آزادیوں کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ خواتین کا چہرہ ڈھانپنا ذاتی مذہبی عمل ہے اور ریاست کو اس میں مداخلت کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
■ عالمی تنقید:
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس پالیسی پر تنقید کی ہے، اور قزاقستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کا احترام کرے اور اقلیتوں اور مذہبی طبقات کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
قزاقستان اس وقت ایک اہم دو راہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف وہ جدیدیت اور سیکولرازم کو فروغ دینا چاہتا ہے، اور دوسری طرف اکثریتی مسلم آبادی اپنی مذہبی شناخت اور آزادی کے تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف ملک کے اندرونی سماجی توازن بلکہ عالمی سطح پر اس کی امیج کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔




