ایرانی سفیر کا کہنا: سعودی عرب نے کشیدگی روکنے میں مرکزی کردار ادا کیا.
2024 کے اپریل میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس موقع کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک “تاریخی موڑ” قرار دیا گیا، جس نے صرف سفارتی بحالی ہی نہیں بلکہ سٹریٹیجک شراکت داری کی راہ ہموار کی۔
ایران کے سعودی عرب میں سفیر، ڈاکٹر علی رضا عنایتی، جو 1990 میں جدہ میں قونصل کے طور پر تعینات رہ چکے ہیں اور 2023 میں چین کی ثالثی میں بحال ہونے والے تعلقات کے بعد دوبارہ ریاض آئے، انہوں نے حالیہ گفتگو میں سعودی عرب کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو “قابل عزت اور موثر” قرار دیا۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی طرف سے ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد فوری فون کال اور اظہارِ یکجہتی، پھر ولی عہد محمد بن سلمان کا ایرانی صدر کو فون کرنا — ان تمام اقدامات کو عنایتی نے خلوص نیت کے ساتھ یاد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رابطوں نے ایران میں اعتماد اور احترام کا جذبہ پیدا کیا اور یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی کے مترادف ہے۔
سفیر نے بتایا کہ رواں سال دو لاکھ سے زائد ایرانیوں نے عمرہ ادا کیا، اور حجاج کو شامل کر کے یہ تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی — جو دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر بڑھتے روابط کی علامت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سفارتی بحالی تیزی سے ہوئی ہے، مگر معاشی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ابھی بہت کام باقی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ معاہدے، جن میں سرمایہ کاری، نوجوانوں کے تبادلے، ثقافت، اور زمینی راہداری جیسے موضوعات شامل ہیں، بیجنگ معاہدے کے تحت طے پا چکے ہیں، جن پر عمل درآمد جاری ہے۔
عنایتی نے خطے میں ایران کے کردار پر بیرونی الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے کا قدرتی حصہ ہے، نہ کہ کوئی زبردستی کی طاقت۔ اختلافات کے باوجود بات چیت اور سفارتی رابطے ہی حقیقی حل ہیں۔
یہ بیان اور اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ ایران اور سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کے بجائے مفاہمت، ترقی اور تعاون کو ترجیح دی ہے، اور یہ نیا انداز مشرق وسطیٰ کی پالیسی میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔




