پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ – عوام جائیں تو کہاں جائیں؟
حال ہی میں حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 15 روپے اور ڈیزل میں 20 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، ڈالر کے ریٹ، اور حکومت کے ریونیو اہداف کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
جیسے ہی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں، ٹرانسپورٹ سیکٹر نے بھی فوری طور پر کرایوں میں اضافہ کر دیا۔
شہری ٹرانسپورٹ جیسے بسیں، رکشے، ٹیکسی، اور حتیٰ کہ چنگچی تک اب پہلے سے 20% سے 30% زیادہ کرایہ وصول کر رہے ہیں۔
بین الاضلاعی اور لمبے روٹس والی سروسز نے بھی کرایے بڑھا دیے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام عوام، خاص طور پر دیہاڑی دار طبقے پر پڑا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ
“آمدنی وہی پرانی ہے، لیکن خرچے روز بڑھ رہے ہیں۔ پہلے صرف چیزیں مہنگی ہوتی تھیں، اب سفر کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔”
سوشل میڈیا پر بھی شدید غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
#کرایہ_کم_کرو اور #مہنگائی_نامنظور جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ جب تک حکومت پیٹرول پر سبسڈی یا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی مستقل حل نہیں نکالتی، تب تک ہر مہینے عوام کو اس عذاب سے گزرنا پڑے گا۔
ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے سے نہ صرف عوام بلکہ کاروباری سرگرمیاں، اشیاء کی ترسیل اور تعلیمی نظام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ہر بار پیٹرول کی قیمت بڑھے گی تو اس کا بوجھ عوام کب تک برداشت کرے گی؟
کیا حکومت کے پاس اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل ہے؟
یا ہر بار ہم صرف “کرایے بڑھ گئے” کی خبر سن کر خاموش ہو جائیں گے؟
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا اعلان: “پٹرول مزید مہنگا نہیں ہوگا، جلد خوشخبری ملے گی۔”




