ملتان میں غیرقانونی ایل پی جی کمرشل گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز.

ملتان کی سڑکیں روزانہ ہزاروں گاڑیوں کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ان گاڑیوں میں زیادہ تر وہ رکشے اور وینز شامل ہیں جو شہریوں کو سستی سواری فراہم کرتی ہیں۔ لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ یہ سستے سفر اکثر ان کی جانوں کے لیے کتنا بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر گاڑیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں ایل پی جی گیس سلنڈر غیر قانونی طور پر نصب ہوتے ہیں۔ یہی سلنڈر، جو دراصل گھریلو استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں، ایک چلتی گاڑی میں کسی ٹائم بم سے کم نہیں ہوتے۔

یہ وہ سلنڈر ہیں جنہیں حفاظتی اصولوں کے بغیر، عام ورکشاپوں میں نصب کیا جاتا ہے۔ کوئی سرٹیفائیڈ میکینک نہیں، کوئی معائنہ نہیں، کوئی اجازت نہیں۔ صرف چند ہزار روپے کی بچت کے چکر میں کئی لوگ اپنی اور دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان گاڑیوں میں روزانہ اسکول کے بچے، دفتری ملازمین، خواتین، اور بزرگ سفر کرتے ہیں — سب کچھ ایک خاموش دھماکے کے سائے میں۔

لیکن اب ملتان کی انتظامیہ نے خاموش تماشائی بننے سے انکار کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں شہر بھر میں ایک بھرپور کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس، محکمہ ٹرانسپورٹ اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں اچانک چھاپے مارے۔ سڑکوں پر کھڑی رکشوں اور وینز کی چیکنگ کی گئی۔ جہاں سلنڈر غیر قانونی پائے گئے، وہ گاڑیاں موقع پر بند کر دی گئیں، کچھ کو ضبط کر لیا گیا اور کئی ڈرائیوروں کو وارننگ دی گئی۔ صرف گاڑیاں ہی نہیں، بلکہ ان ورکشاپس پر بھی چھاپے مارے گئے جہاں سلنڈرز نصب کیے جا رہے تھے۔

یہ صرف ایک کارروائی نہیں تھی، بلکہ ایک پیغام تھا۔ پیغام یہ کہ اب قانون حرکت میں آ چکا ہے، اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اقدام نے شہر کے شہریوں کو چونکا دیا ہے، اور کئی لوگ اب خود احتیاط برتنے لگے ہیں۔ کچھ نے رکشے میں بیٹھنے سے پہلے پوچھنا شروع کر دیا ہے: “یہ سی این جی ہے یا ایل پی جی؟” یہ سوال پہلے کبھی نہیں کیا جاتا تھا۔

دوسری طرف حکومت کا مؤقف بھی واضح ہے: صرف وہی کمرشل گاڑیاں روڈ پر چل سکتی ہیں جو پٹرول یا سی این جی پر چلتی ہوں، اور ان کا معائنہ باقاعدگی سے ہوتا ہو۔ ایل پی جی کا استعمال نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ جان لیوا بھی۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شہری اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ صرف حکومتی کارروائیوں سے تبدیلی نہیں آتی، جب تک کہ عوام خود نہ جاگے۔ اگر آپ خود گاڑی چلاتے ہیں تو اس میں کسی غیر قانونی سلنڈر کو جگہ نہ دیں۔ اگر آپ سفر کرتے ہیں، تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس کے فیول سسٹم کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔ اور اگر آپ کسی ایسے میکینک کو جانتے ہیں جو یہ کام کرتا ہے، تو اسے روکیں — یا کم از کم اطلاع دیں۔

یہ کریک ڈاؤن صرف ایک آپریشن نہیں، بلکہ ایک اجتماعی بیداری کا آغاز ہے۔ جب سڑک پر چلتی سواری محفوظ ہو گی، تبھی شہر کا سفر واقعی آسان اور پُر سکون کہلائے گا۔ زندگی سستی سواری سے زیادہ قیمتی ہے، اور اسے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں