“ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا، کیونکہ جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے، وہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے” — علی امین گنڈاپور
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ ایک قوم کو غلام بنانے کی سازش ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں، جمہوریت اور عوامی نمائندگی کو جس انداز میں کچلا جا رہا ہے، وہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ ملک کی خودمختاری کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔
علی امین گنڈاپور کے مطابق ملک میں جاری کریک ڈاؤن، سیاسی انتقام، اور عدالتی فیصلوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی مخصوص طاقتیں ملک کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت چلا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی آواز کو دبانے، میڈیا پر قدغن لگانے اور اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک میں سب کچھ آئین کے مطابق ہو رہا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں کو جلسے کرنے سے، لیڈروں کو بولنے سے، اور عوام کو احتجاج کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک خوفناک منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستانی قوم کو شعور سے محروم رکھ کر ایک غلام ذہنیت میں تبدیل کرنا ہے۔
گنڈاپور نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان حالات میں خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ جمہوری جدوجہد کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ ہمیں ایک خودمختار قوم بننا ہے یا ایک کٹھ پتلی ریاست کا حصہ۔



