“اگر آپ نے بچے کو موبائل تھما کر خود کو فارغ سمجھ لیا، تو یاد رکھیں: تباہی کا پہلا قدم آپ نے خود اٹھا لیا ہے۔”

موجودہ دور میں بچوں کی تربیت ایک مسلسل چیلنج بن چکی ہے، لیکن بہت سے والدین نے یہ آسان راستہ اختیار کر لیا ہے کہ وہ بچوں کو موبائل فون دے کر اپنی ذمے داری سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل صرف لاپرواہی نہیں، بلکہ آنے والی نسل کی ذہنی، اخلاقی اور نفسیاتی تباہی کی بنیاد بھی ہے۔

بچوں کو جب بغیر کسی نگرانی کے موبائل فون دیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ ایسے مواد تک بھی رسائی حاصل کر لیتے ہیں جو ان کی عمر، فہم اور تربیت کے خلاف ہوتا ہے۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک، گیمز، اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر وقت گزارنے والے بچے رفتہ رفتہ خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیت اور خاندانی رشتوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا ذہن ایک مصنوعی دنیا میں قید ہو کر حقیقت سے دور ہو جاتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ زیادہ موبائل استعمال سے بچوں میں غصہ، چڑچڑاپن، عدم توجہ، نیند کی کمی، اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے بچے آگے چل کر تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اور ان کے رویّے میں بگاڑ آنا شروع ہو جاتا ہے۔

بدقسمتی سے والدین سمجھتے ہیں کہ موبائل ایک “مصروف رکھنے کا آلہ” ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ تربیت کا مطلب صرف کھانا کھلانا یا لباس دینا نہیں، بلکہ ذہنی، اخلاقی اور روحانی پرورش بھی ہے۔ اگر والدین خود بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، انہیں کہانیاں سنائیں، ان سے بات کریں، باہر لے جائیں، اور ان کی دلچسپی کے مطابق سرگرمیوں میں شامل کریں، تو موبائل کی لت سے بھی بچا جا سکتا ہے اور بچوں کا اعتماد بھی بحال رہتا ہے۔

یاد رکھیں، بچے سیکھنے کے لیے سب سے پہلے اپنے والدین کو دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود مسلسل موبائل میں مصروف ہوں، تو وہی عادت بچوں میں بھی آتی ہے۔ لہٰذا تبدیلی کی شروعات والدین کو خود سے کرنی ہوگی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں