“لگژری گاڑیوں کی قیمتوں میں حیران کن کمی، لیکن مقامی گاڑیاں مہنگی ہو گئیں!”
پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جہاں امپورٹڈ لگژری گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ خاص طور پر پورشے جیسی مہنگی گاڑیوں کی قیمت میں ڈھائی کروڑ روپے تک کی کمی دیکھی گئی ہے، جب کہ جی ویگن کی قیمت میں بھی تقریباً دو کروڑ روپے کی کمی کی گئی ہے۔ یہ قیمتیں مختلف ماڈلز اور ورژنز کے حساب سے تھوڑا بہت فرق رکھتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر لگژری گاڑیوں کی قیمتوں میں یہ کمی صارفین کے لیے ایک خوشخبری ہے۔
لگژری گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی وجوہات:
حکومت کی جانب سے امپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کچھ ریلیف دیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کی قدر میں استحکام۔
مختلف درآمدی پالیسیوں میں نرمی اور سہولیات۔
دوسری طرف، مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ:
اسی دوران پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی لاکھوں روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ مقامی سطح پر خام مال کی مہنگائی، مینوفیکچرنگ لاگت میں اضافہ، اور سپلائی چین کے مسائل ہیں۔
یہ صورتحال صارفین کے لیے ایک مشکل چیلنج بن گئی ہے کیونکہ اب وہ مہنگے مقامی آپشنز اور سستے لگژری امپورٹڈ گاڑیوں کے درمیان الجھن کا شکار ہیں۔
آپ کے لیے کیا مطلب ہے؟
اگر آپ لگژری گاڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں تو یہ وقت اچھا ہے کیونکہ قیمتیں نمایاں کم ہو گئی ہیں۔
لیکن مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بجٹ پلاننگ ضروری ہو گئی ہے۔
مارکیٹ میں جلدی فیصلے کرنے سے پہلے مکمل تحقیق اور مشورہ لینا بہتر ہوگا۔




