صدر ٹرمپ کے خلاف ایڈیٹ شدہ انٹرویو مہنگا پڑ گیا — پیراماؤنٹ کو دینا ہوگا 16 ملین ڈالر ہرجانہ۔

امریکا کی سیاست میں ایک نیا اور حیران کن موڑ اس وقت آیا جب معروف میڈیا کمپنی پیراماؤنٹ گلوبل نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 16 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے پیراماؤنٹ کی ذیلی کمپنی CBS نیوز پر الزام لگایا کہ اس نے کاملہ ہیرس کے انٹرویو کو اس انداز میں ایڈٹ کیا کہ اس سے ان کی (ہیرس کی) انتخابی ساکھ کو فائدہ پہنچا جبکہ ٹرمپ کی شبیہ متاثر ہوئی۔

■ معاملہ کیا تھا؟
یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب CBS نیوز پر کاملہ ہیرس کا ایک خصوصی انٹرویو نشر ہوا، جس میں ٹرمپ کے بیانات اور پالیسیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا۔ ٹرمپ کے وکلا نے الزام لگایا کہ اس پروگرام میں ایڈیٹنگ کے ذریعے سیاق و سباق کو توڑا مروڑا گیا اور ایسا تاثر دیا گیا جیسے ٹرمپ کی باتیں بے بنیاد یا ناپسندیدہ ہوں۔ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ یہ انٹرویو جان بوجھ کر “سیاسی مداخلت” کے طور پر تیار کیا گیا۔

■ قانونی جنگ کا آغاز
ٹرمپ نے پیراماؤنٹ کے خلاف ایک ہتکِ عزت اور غیرمنصفانہ کوریج کا مقدمہ دائر کیا۔ ان کے وکلا کا مؤقف تھا کہ:

انٹرویو کی ایڈیٹنگ جانبدارانہ تھی

دیکھنے والوں کو گمراہ کن پیغام پہنچایا گیا

اس سے ٹرمپ کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچا

معاملہ عدالت میں پہنچا اور کئی ماہ تک چلا۔ آخرکار پیراماؤنٹ نے بغیر جرم تسلیم کیے ایک سمجھوتے کے تحت 16 ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

■ میڈیا پر اثرات
یہ واقعہ امریکی میڈیا کی غیرجانبداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ناقدین کہہ رہے ہیں کہ اگر ایک انٹرویو کی ایڈیٹنگ اتنی حد تک متنازع ہو سکتی ہے کہ ایک سابق صدر کو کروڑوں ڈالر کا ہرجانہ ملے، تو کیا باقی رپورٹس اور سیاسی کوریج بھی اسی اصول پر دیکھی جانی چاہیئے؟

صحافت کے ماہرین اسے ایک ’’ویک اپ کال‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ:

ایڈیٹنگ کی آزادی اور ذمہ داری کے درمیان توازن اب مزید اہم ہو گیا ہے

عوامی اعتماد میڈیا سے تیزی سے کم ہو رہا ہے

عدالتی فیصلے صحافتی پریکٹسز کو ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کر سکتے ہیں

■ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو فائدہ؟
اس عدالتی فیصلے نے ٹرمپ کو ایک سیاسی فتح بھی فراہم کی ہے۔ انہوں نے اسے ’’میڈیا کی جانبداری کے خلاف تاریخی فیصلہ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ رقم نہیں، اصول کی جیت ہے‘‘۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، اس واقعے نے ٹرمپ کے اُس بیانیے کو تقویت دی ہے جس میں وہ اکثر کہتے ہیں کہ “Fake News Media” ان کے خلاف سازش کرتا ہے۔

■ کاملہ ہیرس کا موقف؟
اب تک کاملہ ہیرس یا ان کی ٹیم کی طرف سے اس فیصلے پر کوئی براہِ راست ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو CBS اور پیراماؤنٹ کا داخلی معاملہ سمجھتی ہیں۔
یہ واقعہ ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ میڈیا، سیاست اور قانون ایک دوسرے سے کس حد تک جُڑے ہوئے ہیں۔ جہاں صحافت کو آزادی حاصل ہے، وہیں ذمہ داری اور غیرجانبداری کا تقاضا بھی وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں