“وقت سب کچھ بدل دیتا ہے—جس دکھ نے آج رُلایا، وہ کل محض ایک یاد بن جائے گا۔”

زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں ایسے لمحے ملتے ہیں جو اُس وقت ناقابلِ برداشت لگتے ہیں—شدید محبت، ناکامی، بے بسی، یا مایوسی۔ لیکن ایک سادہ حقیقت ہے جسے ہم اُس وقت نہیں سمجھ پاتے: وقت گزر جاتا ہے، اور ہمارے احساسات بھی بدل جاتے ہیں۔

سترہ سال کی عمر میں جس شخص سے آپ کو شدید محبت تھی، وہ آپ کی دنیا کا مرکز لگتا تھا۔ اس کے بغیر سب ادھورا، سب بےرنگ محسوس ہوتا تھا۔ مگر جیسے ہی وقت گزرے گا، جیسے جیسے آپ خود کو، زندگی کو، اور اپنے مقصد کو سمجھنا شروع کریں گے، وہ شخص—جو کبھی پوری دنیا لگتا تھا—اب صرف ایک ہلکی سی یاد بن جائے گا، یا شاید بالکل بھی نہیں۔

اسی طرح وہ امتحان جس میں آپ ناکام ہوئے تھے، جس نے آپ کو شرمندہ اور ناکام محسوس کروایا، وہ بھی وقت کے ساتھ بےمعنی ہو جائے گا۔ جب آپ اپنی منزل کے قریب ہوں گے، آخری سال میں، ڈگری کے دہانے پر کھڑے ہوں گے، تب آپ ہنس کر کہیں گے:
“وہ تو ایک چھوٹا سا موڑ تھا، راہ کا پتھر—not the end of the road.”

آج جو مسئلہ آپ کو زمین سے جوڑ کر بیٹھا دیتا ہے، جو راتوں کی نیند اور دن کا سکون چرا لیتا ہے، وہ ایک سال بعد نہ صرف معمولی لگے گا بلکہ یاد بھی شاید نہ آئے۔ وقت صرف زخم بھرنے والا مرہم نہیں، بلکہ وہ ایک نیا نظریہ دیتا ہے—کہ ہر چیز عارضی ہے، ہر تکلیف گزر جائے گی۔

تو بس ایک سادہ سا پیغام ہے: تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔
شاید آج نہیں، کل نہیں—لیکن جلد، بہت جلد۔ زندگی تمہیں دوبارہ ہنسانا سکھا دے گی۔ بس وقت کو اپنا کام کرنے دو۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں