“ایران نے خطرے کو بھانپ لیا—اسرائیلی حملے کے خدشے پر فضائی حدود بند کر دی۔”

ایران نے ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی فضائی حدود (Airspace) بند کر دی ہے، جس کا سبب اسرائیل کی ممکنہ ایئر اسٹرائیک کا خدشہ بتایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا غماز ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اسرائیلی میڈیا اور مغربی انٹیلیجنس ذرائع کی رپورٹس کے مطابق، ایران پر اسرائیلی حملے کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔

اسرائیل کی جانب سے حالیہ بیانات—جن میں حماس، ایران اور ان کے اتحادیوں کے مکمل خاتمے کی بات کی گئی ہے—نے ایرانی سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

ایران نے خطرے کے پیش نظر اپنی فضائی حدود کو فوری طور پر تمام غیرضروری پروازوں کے لیے بند کر دیا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب:

غزہ میں جنگ بندی کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں

ایران اسرائیل پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام لگاتا رہا ہے

ایران نے اسرائیل کو متعدد بار براہ راست جواب دینے کی دھمکی دی ہے

ایسی صورتِ حال میں فضائی حدود کی بندش واضح کرتی ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کے لیے تیار ہونا چاہتا ہے۔

فضائی روٹس میں بڑی تبدیلیاں، بین الاقوامی پروازوں پر اثر

سفارتی کشیدگی میں اضافہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ

اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ
ایران کا یہ اقدام محض ایک سیکیورٹی تدبیر نہیں بلکہ ایک سفارتی پیغام بھی ہے—کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ فوری ردِعمل دے سکتا ہے۔ ایسے اقدامات دنیا کو خبردار کرتے ہیں کہ اب مشرقِ وسطیٰ کا بحران صرف فلسطین یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں