“یہ صرف عمران خان کی قید نہیں… یہ پورے پاکستان کے نظام کی قید ہے۔”
اس وقت پاکستان کی سیاست میں جو صورتحال ہے، وہ محض ایک شخص یا ایک جماعت تک محدود نہیں۔ عمران خان کا جیل میں ہونا ایک علامت ہے—ایک ایسی علامت جو بتاتی ہے کہ ہمارے ریاستی ڈھانچے، جمہوری اصولوں اور ادارہ جاتی آزادی سب کسی نہ کسی صورت میں پابندیوں کا شکار ہیں۔
آج انصاف کا نظام دباؤ میں ہے، میڈیا آزاد آوازیں نشر کرنے سے ڈرتا ہے، پارلیمان حقیقی بحث سے خالی ہے، اور عوام کی رائے فیصلوں میں نظر نہیں آتی۔ یہ سب مل کر ایک ایسے “نظامی جیل” کی تصویر بناتے ہیں جہاں صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ پورا معاشرہ اپنی آزادانہ سانس کھونے لگا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام کا اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے، اور جب نظام پر اعتماد ٹوٹ جائے تو قوم کی اجتماعی طاقت بھی بکھر جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کب آزاد ہوں گے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کا نظام کب اس قید سے نکلے گا جس میں وہ برسوں سے جکڑا ہوا ہے۔



