تعلیم ہر قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر پنجاب میں سرکاری سکولوں کی تعداد میں مسلسل کمی مستقبل کی نسلوں کے تعلیمی حق پر گہرا سوالیہ نشان ہے۔
پنجاب میں سرکاری سکولوں کی تعداد گزشتہ چند دہائیوں میں تشویشناک حد تک کم ہو رہی ہے، جو ملک کی تعلیمی پالیسیوں اور حکومتی حکمت عملیوں پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ سال 2000 میں پنجاب میں 66,770 سرکاری سکول موجود تھے، مگر وقت کے ساتھ یہ تعداد گھٹتی چلی گئی، 2018 میں یہ تعداد 52,394 ہو گئی، پھر 2022 میں یہ 48,000 اور 2025 میں مزید کمی کے ساتھ صرف 42,805 رہ گئی ہے۔ فیز-III کے بعد یہ تعداد اور بھی کم ہو کر 38,105 سکول رہ جانے کی توقع ہے۔
اس کمی کی بنیادی وجوہات میں سرکاری اساتذہ کی شدید قلت اور ایک لاکھ سے زائد خالی اسامیوں کا ہونا شامل ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی نظام زوال کا شکار ہے۔ اس کے باوجود اساتذہ کی بھرتی کے بجائے، حکومت نے ایک متنازعہ حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ ٹھیکداروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹھیکدار سکولوں کو چلانے کے لیے مقرر کی جاتی ہے اور انہیں ایک معینہ رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ تعلیمی ادارے کو چلائیں۔
تاہم، اس نظام میں کئی مسائل پائے جاتے ہیں۔ اگر کسی ٹھیکدار کو سکول چلانا مناسب نہ لگے تو وہ اسے چھوڑ دیتا ہے، جس کے بعد سکول کو کسی اور ٹھیکدار کے حوالے کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے غیر مستقل انتظام سے نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ اساتذہ اور طلبہ دونوں کو عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ صورتحال سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کر رہے ہیں؟ تعلیم کے بغیر کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں، اور سرکاری سکولوں کی تعداد میں کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے بحران کا شکار ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سماجی اور تعلیمی چیلنج ہے جس کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
اگر ہم نے اس جانب توجہ نہ دی تو آنے والے وقت میں پنجاب کے نوجوانوں کی تعلیم محدود ہو سکتی ہے، جو ملک کی مجموعی ترقی میں رکاوٹ بنے گی۔ حکومت، والدین، اور معاشرے کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم میسر ہو اور پاکستان ایک روشن اور ترقی یافتہ ملک بن سکے۔




