26ویں ترمیم سے عدلیہ کے دانت توڑ چکے، 27ویں ترمیم سے مسوڑھے بھی ختم کر دیں گے: حافظ نعیم

کراچی — جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے “دانت” تو پہلے ہی نکال دیے گئے ہیں، اور اب 27ویں ترمیم کے ذریعے “مسوڑھے” بھی ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ آئین میں بار بار ترامیم کر کے اداروں کی خودمختاری کو کمزور کیا جا رہا ہے، جو جمہوری نظام کے لیے خطرناک عمل ہے۔ ان کے بقول، ایک آزاد عدلیہ ہی انصاف کی فراہمی اور عوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت دے سکتی ہے، لیکن موجودہ حکمران اپنی مرضی کے فیصلے لینے کے لیے عدالتی نظام کو بے اثر کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عوام کا عدلیہ پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، اور اس کا نقصان براہِ راست ریاست کے نظام کو پہنچے گا۔ حافظ نعیم نے تمام سیاسی و سماجی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے متحد ہوں اور ایسی ترامیم کی مزاحمت کریں جو اداروں کی آزادی کو سلب کرتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حافظ نعیم کا یہ بیان نہ صرف عدلیہ کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تیز کرے گا بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ کرے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں