سوات: وادیٔ جنت یا انسان کی خود ساختہ تباہی؟

“یہ اللہ کا عذاب نہیں، یہ انسان کی اپنی لالچ اور غلطیوں کا نتیجہ ہے!”

کبھی “وادیٔ جنت” کہلانے والا سوات، آج بے رحم درختوں کی کٹائی، ندی نالوں پر بے ہنگم تعمیرات اور ماحول دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ تباہی کسی قدرتی آفت کا نہیں، بلکہ ہماری اپنی منصوبہ بندی، خودغرضی اور بے احتیاطی کا شاخسانہ ہے۔

🌳 1. درختوں کی بے دریغ کٹائی:

سوات کی پہچان اس کے سرسبز جنگلات تھے۔
درخت زمین کو باندھتے ہیں، پانی جذب کرتے ہیں، اور سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے خلاف قدرتی قلعہ ہوتے ہیں۔
مگر آج ان جنگلات کو کاٹ کر بیچا جا رہا ہے، زمین ننگی ہو گئی ہے، اور ہر سال بارش کے بعد سوات سیلاب کا شکار بنتا جا رہا ہے۔

🏘️ 2. دریاؤں کے کنارے بے ہنگم تعمیرات:

سوات میں دریا اور ندی نالوں کے بالکل کنارے ہوٹل، مارکیٹیں اور گھر بنا دیے گئے ہیں۔
یہ تعمیرات پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، جس کی وجہ سے تھوڑی سی بارش بھی بڑے سیلاب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ریور بیڈ پر قبضے صرف وقتی فائدے کے لیے کیے جا رہے ہیں، مگر ان کے نتائج نسلوں تک بھگتنا پڑیں گے۔

🧭 3. سیاحت بمقابلہ تباہی:

سوات کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے۔
لیکن اگر یہ ماحولیاتی تباہی جاری رہی تو نہ صرف سیاح آنا بند کر دیں گے، بلکہ مقامی لوگ بھی اپنے گھر، روزگار اور زمینیں کھو بیٹھیں گے۔
ماحول دوست سیاحت اور پائیدار ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

📖 4. قرآن کا انتباہ – ہم کیا کر رہے ہیں؟

“ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ”
خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا ہے انسانوں کے اعمال کی وجہ سے۔
[سورہ الروم: 41]

یہ فساد ہم خود پیدا کر رہے ہیں — قدرت ہمیں خبردار کر رہی ہے۔

🔴 اب کیا کرنا ہوگا؟

اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ سنبھالا تو سوات کل صرف تصویروں میں رہ جائے گا۔

✅ درختوں کی کٹائی پر فوری پابندی لگائی جائے۔
✅ ندی نالوں کے اطراف غیر قانونی تعمیرات ختم کی جائیں۔
✅ جنگلات کی بحالی کے منصوبے شروع کیے جائیں۔
✅ ماحول دوست سیاحت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
✅ عوامی شعور بیدار کیا جائے۔

سوات بچانا صرف حکومت کی نہیں، ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
آج عمل کریں، ورنہ کل آپ کے بچے صرف پوچھیں گے:
“کیا سوات واقعی اتنا خوبصورت تھا؟”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں