“ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے – مولانا فضل الرحمان”

عوامی نیشنل پارٹی (ANP) کے زیرِ اہتمام آل پارٹیز کانفرنس (APC) منعقد ہوئی جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد ملک میں درپیش سیاسی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کا حل تلاش کرنا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا تھا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی انتشار اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت باہمی چپقلش یا الزام تراشی کا نہیں، بلکہ مشترکہ حکمتِ عملی سے آگے بڑھنے کا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ پارلیمان کی بالادستی، آئین کی عملداری اور جمہوری اقدار کی بحالی کے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی معاملات میں مداخلت بند ہونی چاہیے اور تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے ANP کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ ایسی مشاورت ملک کو درپیش بحرانوں کے حل کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتیں آئندہ بھی ایسے پلیٹ فارم پر یکجا ہو کر قومی بیانیہ تشکیل دیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔

مولانا فضل الرحمان کا خطاب کانفرنس کا ایک مرکزی نقطہ بن گیا، جس میں انہوں نے اتفاق و اتحاد، شفاف انتخابات، اور عوامی مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت کا بھی اظہار کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں