“جلاوطنی اور قید کی کہانیاں الگ الگ ہیں، مگر قربانی کا پیمانہ ایک نہیں ہوتا!”

الطاف حسین اور عمران خان — دونوں شخصیات نے “حقیقی آزادی” کا نعرہ لگایا، دونوں نے ریاستی اداروں کی مخالفت کا سامنا کیا، اور دونوں کے حامیوں نے جبر و ستم برداشت کیے۔ لیکن ان دونوں میں موازنہ کرنا نہ صرف سیاسی لحاظ سے غلط ہے بلکہ تاریخی حقائق کی روشنی میں بھی ناقابلِ فہم ہے۔

الطاف حسین، جو بانی ایم کیو ایم ہیں، طویل عرصے سے برطانیہ میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان پر ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں کے الزامات لگائے جاتے رہے اور ان کے ہزاروں کارکن ان دعوؤں کے مطابق ریاستی آپریشنز کا نشانہ بنے۔ ان کی جدوجہد شہری علاقوں، خاص طور پر کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں مہاجروں کے حقوق کی بنیاد پر مرکوز تھی۔

دوسری جانب، عمران خان — ایک مقبول عوامی لیڈر، سابق وزیرِاعظم اور تحریکِ انصاف کے بانی — آج جیل کی کوٹھڑی میں قید ہیں۔ ان پر کرپشن، سائفر، اور ۹ مئی کے واقعات جیسے الزامات لگائے گئے، جبکہ ان کی جماعت کے درجنوں رہنما پابندِ سلاسل یا سیاست سے الگ ہو چکے ہیں۔ عمران خان کی جدوجہد ملک گیر سطح پر نظامِ عدل، کرپشن کے خاتمے اور ادارہ جاتی مداخلت کے خلاف ہے۔

لیکن اہم فرق یہ ہے کہ الطاف حسین اس وقت خود برطانیہ میں محفوظ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ عمران خان میدان میں کھڑے ہوکر سزا کاٹ رہے ہیں۔ ٹوئیٹر پر چند جملے لکھنے اور عملی طور پر میدان میں رہنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں