اتنی تیزی سے درخت کے پتے بھی نہیں جھڑتے جتنی تیزی سے ہم سے ہمارے MNA’s لے لیے گئے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے حالیہ سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک کڑوا سچ بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا:

“اتنی تیزی سے درخت کے پتے بھی نہیں جھڑتے جتنی تیزی سے ہم سے ہمارے MNA’s لے لیے گئے!”

یہ جملہ نہ صرف پارٹی کی موجودہ پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس میں سیاسی نظام پر ایک گہرا طنز بھی چھپا ہے، جو کہ حالیہ مہینوں میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کے استعفوں، پارٹی چھوڑنے یا جبری علیحدگیوں کے تناظر میں کہا گیا۔

📉 پس منظر:

عام انتخابات 2024 کے بعد پی ٹی آئی کو کئی سطحوں پر دباؤ کا سامنا رہا، خصوصاً ان کے جیتے ہوئے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ بعد ازاں، کئی MNAs نے مبینہ طور پر پارٹی لائن کے خلاف فیصلے کیے یا پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کی۔

بیرسٹر گوہر کا یہ بیان اس ہی محرومی اور سیاسی انجینئرنگ پر ایک برہمی کا اظہار ہے، جہاں ایک عوامی نمائندہ جماعت کو منظم انداز میں کمزور کیا گیا۔

🧠 سیاسی تجزیہ:

سیاسی مبصرین کے مطابق بیرسٹر گوہر کا یہ بیان صرف ایک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سیاسی حقیقت کی نشاندہی ہے۔ عوامی ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندے، اگر غیر جمہوری طریقوں سے پارٹی سے الگ کیے جائیں، تو یہ نہ صرف سیاسی انصاف کی نفی ہے بلکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

📢 پارٹی موقف:

پی ٹی آئی قیادت متعدد بار اس بات کا دعویٰ کر چکی ہے کہ ان کے امیدواروں کو ادارہ جاتی دباؤ، دھمکیوں اور قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے توڑا گیا، جس کے نتیجے میں پارٹی کو پارلیمانی نمائندگی سے محروم کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر کا جملہ نہ صرف ایک سیاسی طنز ہے بلکہ ایک آئینی و جمہوری المیے کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔ درخت کے پتوں کی طرح گرتے ہوئے MNAs کا ذکر درحقیقت پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ پر ایک تلخ تبصرہ ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں