“جب جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر آمریت چھپائی جائے، تو سمجھ لیں کہ بیلٹ بکس نہیں، مفادات جیت رہے ہیں!”
مودی کا جعلی مینڈیٹ اور بھارتی الیکشن کمیشن کا گٹھ جوڑ بے نقاب
بھارت، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے، آجکل شدید تنقید کی زد میں ہے۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات 2024 میں نریندر مودی کی بی جے پی حکومت نے جو “مینڈیٹ” حاصل کیا، اس پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ بی جے پی نے کامیابی حاصل کی، سوال یہ ہے کہ یہ کامیابی کتنی شفاف، کتنی جائز، اور کتنی جمہوری تھی؟
⚖️ الیکشن کمیشن کا کردار — غیر جانبدار یا جانبدار؟
بھارتی الیکشن کمیشن، جو ایک خودمختار ادارہ ہونا چاہیے، اس بار بی جے پی کا سہولت کار بن کر سامنے آیا۔ ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق:
کئی حلقوں میں ای وی ایم مشینوں کی خرابی، ووٹوں کے غلط اندراج، اور تاخیر کی شکایات سامنے آئیں۔
بی جے پی امیدواروں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کوئی سخت نوٹس نہ دیا گیا، جب کہ اپوزیشن پر فوری کارروائیاں ہوئیں۔
وزیراعظم مودی کی جانب سے اقلیتوں اور اپوزیشن کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کو نظر انداز کیا گیا۔
📊 مشکوک اعداد و شمار اور انتخابی بے ضابطگیاں:
کئی ایسے حلقے جہاں بی جے پی کی مقبولیت کم سمجھی جا رہی تھی، وہاں حیران کن طور پر بڑے مارجن سے کامیابی ملی۔
اپوزیشن جماعتوں نے شکایت کی کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران نتائج میں دانستہ تاخیر کی گئی تاکہ سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
چند حلقوں میں نتائج کے اعلان سے قبل ہی میڈیا چینلز بی جے پی کی کامیابی کی خبریں چلا رہے تھے، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھے۔
📢 اپوزیشن اور سول سوسائٹی کا ردعمل:
راہول گاندھی، ممتا بینرجی، اروند کیجریوال سمیت کئی اہم اپوزیشن لیڈرز نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگایا۔ کچھ حلقوں میں دوبارہ گنتی یا الیکشن کی دوبارہ درخواست دی گئی، لیکن الیکشن کمیشن نے اکثریتی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
سول سوسائٹی، طلبہ تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے بھی اس پورے انتخابی عمل کو “منصوبہ بند مینڈیٹ” قرار دے رہے ہیں۔
💣 اصل سوال:
کیا یہ مینڈیٹ واقعی عوام کی رائے کا عکاس ہے؟ یا یہ ایک ایجنڈے کے تحت تیار کیا گیا جعلی مینڈیٹ ہے جس کا مقصد بی جے پی کو تیسری مدت دینا تھا، تاکہ وہ اپنے نظریاتی عزائم — جیسے ہندوتوا ایجنڈا، میڈیا کنٹرول، اور عدالتی دباؤ — کو مزید تقویت دے سکیں؟
مودی حکومت کا “تاریخی مینڈیٹ” دراصل جمہوری عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ جب الیکشن کمیشن جیسے ادارے حکومت کے آلہ کار بن جائیں، تو نہ صرف جمہوریت کا جنازہ نکلتا ہے، بلکہ عوام کا اعتماد بھی چکناچور ہو جاتا ہے۔
کیا بھارت واقعی جمہوری ملک ہے، یا صرف ایک جمہوریت کا ڈھونگ؟



