“بارش نے نظام زندگی مفلوج کر دیا، بجلی غائب، پانی سڑکوں پر – حیدرآباد کا ہر علاقہ بنا پانی کا منظر!”
سندھ کے مختلف شہروں، خصوصاً حیدرآباد، جامشورو اور کوٹری میں بدھ کے روز ہونے والی شدید بارش نے شہری نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا۔ نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، اور بجلی کی بندش نے نکاسی آب کے تمام تر نظام کو شدید متاثر کیا۔
حیدرآباد کے لطیف آباد اور قاسم آباد سمیت متعدد علاقوں میں بارش کے بعد پانی سڑکوں پر کھڑا ہو گیا، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے فوری بعد بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، جس نے نکاسی آب کے پمپنگ اسٹیشنز کو بھی بند کر دیا، یوں شہر میں پانی کی سطح مزید بلند ہوتی گئی۔
حیسکو (حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی) ریجن کے 300 سے زائد فیڈرز بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ میئر حیدرآباد کاشف شورو کے مطابق، واٹر کارپوریشن کے 129 میں سے کسی ایک پمپنگ اسٹیشن کو بھی بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ شہر کو شدید ماحولیاتی اور انفرااسٹرکچر کے بحران کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، ترجمان حیسکو کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کا ایک بڑا سبب ٹنڈو محمد خان سے بلڑی شاہ کریم کے درمیان واقع دو ٹاورز کا گرنا ہے۔ ان ٹاورز کی مرمت اور دوبارہ تنصیب کے بعد ہی گرڈ اسٹیشن کو بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ تاہم مرمت میں کئی گھنٹے یا دن بھی لگ سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ شہریوں کو طویل دورانیے کی بجلی کی بندش اور اس کے نتیجے میں ناقص نکاسی آب جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوامی مشکلات اور تحفظات
حیدرآباد کے شہریوں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے متعلقہ اداروں پر تنقید کی ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی نکاسی آب، ایمرجنسی پلاننگ اور بجلی کے بیک اپ سسٹمز کی تیاری نہ ہونے کے باعث معمولی بارش بھی بحران میں بدل گئی۔ کئی مقامات پر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالتے دکھائی دیے، جبکہ اسپتالوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں بھی معمولات زندگی درہم برہم ہو چکے ہیں۔
حیدرآباد اور گرد و نواح میں بارش نے جہاں موسم کو خوشگوار بنایا، وہیں ایک بار پھر مقامی انتظامیہ کی کارکردگی، انفرااسٹرکچر کی خستہ حالی اور بجلی کی غیرمستقل فراہمی کو بے نقاب کر دیا۔ آنے والے دنوں میں اگر مزید بارشیں ہوئیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہایت ضروری ہیں۔




