“عمران خان کی زبان پر اگلا ہدف — ‘اگلا سٹاپ: اسلام آباد ہائی کورٹ’!”

نو مئی کیسز میں سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد عمران خان اور علیمہ خان کا دبنگ مؤقف، القادر کیس پر چیف جسٹس پر سوالات

سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو جب سپریم کورٹ کی جانب سے نو مئی 2023 کے مقدمات میں ضمانت ملی، تو قانونی محاذ پر ایک بڑی کامیابی کے بعد اُن کا اگلا ہدف بھی فوری واضح ہو گیا — اسلام آباد ہائی کورٹ۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا:

“اگلا سٹاپ: اسلام آباد ہائی کورٹ”

یہ بیان ایک طرف سیاسی جوش و جذبے کا عکاس تھا، تو دوسری طرف القادر ٹرسٹ کیس میں التواء کا شکار درخواستوں پر ان کی بے چینی بھی ظاہر کرتا تھا۔

عمران خان کا براہِ راست الزام: “چیف جسٹس ہمیں تاریخ ہی نہیں دے رہے”

ویڈیو میں مزید گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر پر تنقید کرتے ہوئے کہا:

“ہم اب چیف جسٹس ڈوگر صاحب کے پاس واپس جائیں گے، جو ہمیں تاریخ نہیں دے رہے۔”

ان کا دعویٰ تھا کہ:

“پچھلے چار ماہ سے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کی سماعت نہیں ہو رہی۔”

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان اس کیس کو بھی جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس حوالے سے غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔

علیمہ خان کی موجودگی — پیغام یا دباؤ؟

عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی اس موقع پر میڈیا کے سامنے آئیں، جو عموماً سیاسی معاملات میں کم نظر آتی ہیں۔
ان کی موجودگی، اور “اگلا سٹاپ” جیسے جملے کا استعمال، ایک سوچا سمجھا سیاسی پیغام بھی ہو سکتا ہے — کہ قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ اگلا محاذ اب اسلام آباد ہائی کورٹ ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس: پس منظر

یاد رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مبینہ کرپشن کے الزامات ہیں، اور یہ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں ہے۔

عمران خان کے وکیلوں کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں، تاہم عمران خان کے مطابق عدالت میں ان درخواستوں پر سماعت ہی نہیں ہو رہی۔

⚖️ نتیجہ:

سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد جہاں عمران خان کو ایک بڑی ریلیف حاصل ہوئی، وہیں اسلام آباد ہائی کورٹ اب اُن کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔
ان کا براہِ راست الزام کہ عدالت سماعت سے گریز کر رہی ہے، ایک بار پھر عدلیہ اور سیاست کے تعلق پر سوال اٹھاتا ہے۔

کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا اگلا قدم قانونی تقاضوں کے مطابق ہو گا، یا سیاسی دباؤ کا شکار؟
یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں