جب سزائیں سنا چکے ہو تو معافی کیسی؟ — ارشاد بھٹی کا دو ٹوک مؤقف”

عمران خان کے لیے “معافی تلافی” کی بحث پر سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا ردعمل: “معافی کا وقت گزر چکا، اب صرف فیصلے باقی ہیں”

ملک کی سیاست میں ان دنوں ایک بار پھر “معافی، مفاہمت اور ریلیف” جیسے الفاظ گونجنے لگے ہیں۔
یہ بحث اُس وقت شدت اختیار کر گئی جب معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک حالیہ کالم میں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ممکنہ “معاہدہ یا نرمی” کی بات کی۔

تاہم اس پر معروف صحافی اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے اپنے پروگرام میں دو ٹوک اور واضح ردِعمل دیا ہے:

“معافی کا وقت تو گزر گیا، عمران خان کو تین کیسز میں سزائیں ہو چکی ہیں، مزید پانچ چھ کیسز میں بھی سزائیں متوقع ہیں — تو اب کیسی معافی؟”

ارشاد بھٹی کا نقطۂ نظر: دیر ہو چکی ہے!

ارشاد بھٹی نے کہا کہ اگر ریاستی یا سیاسی قوتیں واقعی کسی قسم کی نرمی یا مفاہمت کی خواہاں تھیں تو یہ اس وقت ہونا چاہیے تھا جب مقدمات چل رہے تھے، یا الزامات لگائے جا رہے تھے۔
ان کے بقول:

“یہ سین تب ہونا تھا اگر آپ سزائیں نا دیتے، اب تو بس فیصلے ہی چل رہے ہیں۔”

یعنی اب جب عمران خان کو تین مقدمات میں واضح سزائیں سنائی جا چکی ہیں، اور مزید مقدمات میں عدالتی کارروائیاں آخری مراحل میں ہیں، تو معافی کا مطالبہ یا بحث بے معنی ہو جاتی ہے۔

معافی کی بات کہاں سے شروع ہوئی؟

یہ معاملہ سب سے پہلے سہیل وڑائچ کے ایک کالم سے منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ طاقتور حلقوں اور عمران خان کے درمیان پسِ پردہ بات چیت ہو سکتی ہے — جس کا مقصد ملک میں سیاسی استحکام اور نئی صف بندی ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد مختلف میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پر یہ تاثر گردش کرنے لگا کہ:

شاید اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو ریلیف دینا چاہتی ہے

یا شاید عمران خان مفاہمت کے لیے آمادہ ہو چکے ہیں

لیکن ارشاد بھٹی کا مؤقف مختلف

ارشاد بھٹی ان تجزیوں کو سیاسی سادگی یا خوش فہمی قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ:

عدلیہ کی طرف سے فیصلے آ چکے ہیں

قانونی اور آئینی تقاضے اب سزائیں مکمل کروانے پر زور دے رہے ہیں

اور ایسے میں معافی تلافی کی باتیں غیر سنجیدہ لگتی ہیں
ارشاد بھٹی کا تبصرہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے —
کہ اگر سیاسی فضا میں واقعی نرمی یا مذاکرات کی گنجائش نکالنی تھی، تو وہ وقت عدالتی فیصلوں سے پہلے تھا۔

اب جبکہ عمران خان کو تین مقدمات میں سزائیں مل چکی ہیں، اور مزید مقدمات زیر التوا ہیں،
تو سوال یہ ہے:

کیا قانون کے فیصلوں کے بعد “سیاسی معافی” کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں