کلاؤڈ برسٹ ایک ایسا موسمیاتی غضب ہے جو چند لمحوں میں قیمتی جانوں اور جائیداد کو راکھ کر دیتا ہے.

کلاؤڈ برسٹ، جسے اردو میں “بادل پھٹنا” کہا جاتا ہے، ایک ایسا موسمیاتی واقعہ ہے جس میں آسمان سے اتنی تیز اور شدید بارش گرتی ہے کہ وہ چند منٹوں میں کئی گنا زیادہ پانی زمین پر برسا دیتا ہے۔ یہ بارش عام بارش سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس کا دائرہ محدود ہوتا ہے اور یہ بہت ہی کم وقت میں ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف پہاڑی علاقوں جیسے بونیر، مانسہرہ، سوات، شانگلہ، بٹگرام اور باجوڑ میں حالیہ کلاؤڈ برسٹ نے تباہی مچا دی، جہاں طوفانی بارش، آندھی اور سیلاب نے گاؤں گاؤں کو تہس نہس کر دیا ہے۔

کلاؤڈ برسٹ کے دوران جو پانی آتا ہے، وہ نہ صرف سیلاب کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ بھی جنم لیتی ہے، جو پہاڑی علاقوں میں تباہی کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ سیلاب کی طاقت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ یہ کئی مرتبہ سمندری طوفان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ پہاڑوں سے نیچے آتا ہوا یہ پانی راستے میں آنے والی عمارتوں، سڑکوں اور پلوں کو آسانی سے تباہ کر دیتا ہے، اور لوگ بے گھر اور بے سہارا ہو جاتے ہیں۔

کلاؤڈ برسٹ کی وجوہات:
اس کا اصل سبب موسمی تبدیلیاں اور بڑھتی ہوئی گرمی ہے جو ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہی ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں گرم اور مرطوب ہوائیں جب بلند و بالا پہاڑوں سے ٹکرا کر اوپر اٹھتی ہیں تو یہ بادل بنتے ہیں۔ جب یہ بادل بارش کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں، تو وہ اچانک پھٹ جاتے ہیں اور سارا پانی ایک ساتھ زمین پر گرتا ہے۔ اس کے علاوہ، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی ماحول کی تباہی بھی اس قدرتی عمل کو مزید شدت دیتی ہے۔

کلاؤڈ برسٹ کی پیشگوئی کیوں مشکل ہے؟
جدید ٹیکنالوجی کے باوجود، کلاؤڈ برسٹ کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ ایک مختصر دورانیے والا، محدود جغرافیائی علاقے تک محدود واقعہ ہوتا ہے۔ سیٹلائٹ اور موسمی ریڈار عام طور پر بڑے اور دیرپا موسمی پیٹرنز کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مگر کلاؤڈ برسٹ جیسے اچانک اور شدید بارش کے واقعات کو پہچاننا تقریباً ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اکثر بے خبر اور تیار نہ ہو کر اس کے سامنے بے بس رہ جاتے ہیں۔

قدرتی توازن اور انسانی اثرات:
کلاؤڈ برسٹ اور اس کے نتیجے میں آنے والا سیلاب قدرت کی جانب سے انتباہ کی مانند ہے۔ پہاڑی علاقوں میں صدیوں سے پانی ایک مخصوص راستے سے بہتا آیا ہے، لیکن انسانی سرگرمیوں جیسے کہ پہاڑوں پر غیر قانونی تعمیرات، جنگلات کی کٹائی، اور قدرتی ندی نالوں کی بندش نے اس قدرتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ جب پانی کو اس کے قدرتی راستے سے روک کر انسان رہائشیں، ہوٹل، اور گاؤں بنا لیتا ہے تو آفات کا نقصان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

کلاؤڈ برسٹ ایک قدرتی سانحہ ہے جو انسان کی غلطیوں کی صورت میں اور بھی خطرناک بن جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایسے علاقوں میں تعمیرات سے گریز کریں اور حکومت بھی اس حوالے سے سخت قوانین نافذ کرے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات کرنا بھی لازمی ہے تاکہ قدرت کا توازن بحال رہ سکے اور انسان اس کی طاقت سے محفوظ رہ سکے۔“کشتواڑ کا سانحہ: بادل پھٹنے سے تباہی، سینکڑوں لاپتہ، زندہ بچ جانے والوں کی حالت نازک”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں