ایک قوم، جو ہر سال ڈوبتی ہے — مگر سبق نہیں سیکھتی
سیلاب، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ: پاکستان میں تباہی کی نئی لہر!
2025 آ گیا ہے، مگر پاکستان کے منظر نامے میں کچھ بھی نیا نہیں۔ اخبارات کی سرخیاں وہی ہیں: “شدید بارشیں، سیلابی ریلے، درجنوں ہلاکتیں، ہزاروں بے گھر”. متاثرین کی آنکھوں میں وہی بےبسی، بچوں کے چہروں پر وہی مٹی، اور اجڑی بستیوں میں وہی خاموشی جو ہر سال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں — تباہی کا دائرہ۔
ہر سال مون سون آتا ہے، ہر سال ہم حیران ہوتے ہیں، اور ہر سال ریاستی مشینری دعویٰ کرتی ہے کہ “ہم نے مکمل تیاری کر رکھی تھی” — مگر سڑکیں ندی نالے بن جاتی ہیں، دیہات بہہ جاتے ہیں، اور شہریوں کو پھر پانی میں پناہ لینی پڑتی ہے۔ یہ کوئی قدرتی المیہ نہیں، یہ حکومتی نااہلی اور منصوبہ بندی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
ہم نے کبھی ڈرینج نظام کو درست نہیں کیا، نہ ہی ندی نالوں کی صفائی کو سنجیدگی سے لیا۔ نہ بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنے کی کوشش کی، نہ کچی بستیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اربوں کے منصوبے صرف کاغذوں پر بنے اور میڈیا پر دکھائے گئے، زمین پر صرف پانی بکھرا اور لاشیں۔
سیلاب کے بعد حکومتیں وقتی ریلیف کیمپ لگا دیتی ہیں، چند راشن بیگ اور ایک آدھ فوٹو سیشن، پھر اگلے برس سب کچھ بھول کر نئے وعدے، نئی غفلت، اور نئے سانحے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ ہم ہر سال ڈوبتے ہیں — اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے ڈوبنے کو قبول کر لیا ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں: آخر ہم کب ایک سنجیدہ، مستقل، اور پیشگی حکمتِ عملی اپنائیں گے؟ کب تک سیلاب ہمارے گھروں، خوابوں اور بچوں کو بہاتا رہے گا، اور ہم صرف تصویریں دیکھ کر آہیں بھرتے رہیں گے؟




