“نوبل انعام کا خواب، ایک فون کال، اور پاکستان سے قربت—یوں ٹرمپ-مودی تعلقات میں کڑواہٹ گھلی!”

آغاز: ایک فون کال نے بگاڑ دیا رشتہ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان ایک اہم فون کال نے تعلقات کی بنیاد ہلا دی۔

  • ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر جنگ بندی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • انہوں نے اس کامیابی کو نوبل انعام کے قابل قرار دیا۔

  • مودی نے اس بیان پر ناراضی ظاہر کی اور امریکی کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر شدید تحفظات دیے۔


🇵🇰 پاکستان سے ٹرمپ کی قربت

  • ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دیا۔

  • پاکستانی قیادت کے ساتھ ان کی گرم جوشی اور کشمیر ثالثی کی پیشکش نے بھارتی حکومت کو مشتعل کر دیا۔

  • بھارت کو خدشہ تھا کہ امریکہ کا جھکاؤ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔


💼 تجارتی محاذ پر تصادم

  • بھارت کی جانب سے روس سے سستا تیل خریدنے پر، ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 25٪ سے بڑھا کر 50٪ کر دیے۔

  • اس فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی کشیدگی میں اضافہ کیا۔

  • بھارت نے اسے معاشی جارحیت قرار دیا، اور امریکہ سے دوری اختیار کرنے لگا۔


🧊 مودی کی حکمتِ عملی: سرد مہری سے اجتناب

  • مودی حکومت نے سفارتی محاذ پر خاموش رویہ اپنایا، لیکن امریکہ پر واضح کر دیا کہ بھارت کی خودمختاری اور علاقائی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

  • بھارت نے روس اور چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کا اشارہ دیا، جبکہ QUAD میں شمولیت محدود کی۔

گرمجوشی سے سرد مہری تک

  • ماضی میں ٹرمپ اور مودی کے تعلقات کو “برو-مانس” (bromance) کہا جاتا تھا، لیکن اب وہ عدم اعتماد اور ناراضی میں بدل چکے ہیں۔

  • نوبل انعام کی خواہش، کشمیر میں ثالثی کا دعویٰ، اور معاشی دباؤ نے ایک قریبی تعلق کو کشیدہ کر دیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں