“ایمانداری اور ہمدردی کا مظاہرہ—جب قانون کے محافظ نے انسانیت کو مقدم رکھا!”
حال ہی میں ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ پیش آیا جس میں ڈی پی او طارق صاحب نے نہ صرف قانون کی پاسداری کی بلکہ انسانی جذبے کی اعلیٰ مثال بھی قائم کی۔
ایک ڈرائیور نے ڈی پی او صاحب کی فیملی کی قیمتی گاڑی کو ٹکر ماری۔ حادثہ ٹرک ڈرائیور کی غلطی تھی، مگر موقع پر ہی ڈرائیور کو پکڑ لیا گیا اور اس نے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔
حادثے کے بعد ڈی پی او صاحب نے ڈرائیور سے نہ صرف قانونی کارروائی کے بارے میں بات کی بلکہ اس کی ذاتی حالت اور روزگار کا حال بھی پوچھا۔ جب ڈرائیور نے بتایا کہ وہ غریب ہے اور اپنی کمائی سے گزر بسر کرتا ہے، تو ڈی پی او صاحب نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا:
“اس کو جانے دیں۔”
یہ فیصلہ اس لیے بھی قابلِ تحسین ہے کیونکہ گاڑی کا نقصان لاکھوں روپے کا تھا اور فیملی کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہوا تھا، مگر پھر بھی انسانیت کو مقدم رکھا گیا۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قانون کی پاسداری اور انسانیت میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔
سخت فیصلے تو ضروری ہیں، مگر ان میں ہمدردی اور انصاف کا توازن قائم رکھنا ہی معاشرے کو بہتر بناتا ہے۔
ڈی پی او طارق صاحب کا یہ رویہ ہر حکومتی اور معاشرتی عہدے دار کے لیے مشعل راہ ہے کہ وہ صرف طاقت کا استعمال نہ کریں بلکہ دل سے سنبھالیں۔




