“عافیہ صدیقی کی رہائی؟ وزیراعظم اور کابینہ پہلے خود کو بچائیں، قوم بعد میں!”

پاکستانی تاریخ میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب وزیراعظم، ان کی کابینہ، اور عدالتِ عظمیٰ ایک ہی اسٹیج پر ہوں — لیکن عدالت کی کرسی تھوڑی اونچی ہو، اور وزیراعظم حضرات کٹہرے میں!

سپریم کورٹ نے وزیراعظم اور کابینہ کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے کیس پر لارجر بینچ بھی تشکیل دے دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ:

  • جو حکمران خود عدالتوں سے ریلیف مانگنے میں مصروف ہوں،

  • جن کی کابینہ روز عدالتوں میں طلب ہو،

  • جنہیں بار بار “نوٹس” کی دھمکیوں سے ہی ہوش آتا ہو،

وہ عافیہ صدیقی کو امریکی جیل سے کیسے نکالیں گے؟

شاید خط لکھیں گے:
“ڈئیر امریکہ! پہلے ہماری توہینِ عدالت معاف کرو، پھر عافیہ کا سوچیں گے!”

یہ حکومت اتنی مضبوط ہے کہ عدالت کے نوٹس سے کانپ جاتی ہے، اور اتنی بااختیار ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی جیسے بین الاقوامی سفارتی معرکے کا بیڑا اٹھا لیتی ہے۔ واہ، کیا بات ہے!

اسی لیے کہا جا سکتا ہے:
“قوم کا درد رکھنے والے پہلے عدالت کا خوف پال رہے ہیں!”

سپریم کورٹ نے لارجر بینچ ضرور بنایا ہے، لیکن قوم کو یقین ہے کہ
“پہلے چند وزرا کو چھوٹے چھوٹے بینچوں پر بٹھا کر عدالت کا احترام سکھانا ہوگا،
پھر ہی کسی قیدی کو رہا کروانے کی بات ہو سکتی ہے!”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں