دریائے سوات میں ڈوبنے والا عبداللہ – ایک باپ کا صبر آزما انتظار.

سوات، خیبرپختونخوا کا حسین وادیوں سے گھرا ہوا علاقہ، مگر اس بار قدرتی حسن کے بیچ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔
17 سالہ عبداللہ اپنے دوستوں کے ساتھ دریائے سوات کے کنارے سیر کے لیے گیا، مگر اچانک پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔
دریائے سوات میں حادثے کے بعد لوئر دیر میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع، قانونی عملدرآمد کا نیا باب!
جوان، ہنستا مسکراتا لڑکا چند لمحوں میں لاپتہ ہو گیا۔
مقامی لوگوں اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر تلاش شروع کی، لیکن کئی دن گزر جانے کے باوجود عبداللہ کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
عبداللہ کے والد ہر دن، ہر لمحہ دریا کے کنارے کھڑے رہتے ہیں۔
ان کی آنکھیں اب خشک ہو چکی ہیں، آنسو ختم ہو گئے، مگر امید اب بھی زندہ ہے۔
انہوں نے کہا:

“میرا عبداللہ مجھے آواز دے گا… میں روز اس دریا کو دیکھتا ہوں، شاید آج وہ واپس آ جائے…”

گھر میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ماں کا حال بے حال ہے۔ چھوٹے بہن بھائی روز دروازے کی طرف دیکھتے ہیں۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مسلسل کئی دنوں سے سرچ آپریشن میں مصروف ہیں، مگر تیز دھار پانی، پتھریلا راستہ اور موسم کی خرابیاں اس کام کو مشکل بنا رہی ہیں۔
عوام نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ غوطہ خوروں اور جدید آلات کے ذریعے تلاش کے عمل کو تیز کیا جائے۔

یہ واقعہ صرف ایک گھر کا غم نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے سبق ہے۔
والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو پانی کے قریب محتاط رہنے کی تربیت دیں۔
ایسے علاقوں میں حفاظتی اقدامات جیسے لائف جیکٹ، وارنگ بورڈز اور مقامی گائیڈز کی موجودگی لازم ہے۔

کبھی کبھی ایک لمحے کی لاپرواہی پوری زندگی کا پچھتاوا بن جاتی ہے۔
عبداللہ کی واپسی کی امید ابھی زندہ ہے…
اللہ کرے وہ بحفاظت مل جائے، اور اُس کے والد کے خشک آنکھوں کو پھر سے سکون میسر آئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں