پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ حالات کے بعد ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں کے روٹس میں تبدیلی یا منسوخی

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی فضائی سفر پر اثرات مرتب ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ ایئر لائنز نے اپنے روٹس میں تبدیلی یا پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا ہے تاکہ متاثرہ فضائی حدود سے بچا جا سکے۔ اس کشیدہ صورتحال نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ بین الاقوامی ایئر لائنز کو بھی اپنے سفر کے روٹس کو ایڈجسٹ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

پاکستان کی فضائی حدود کی بندش
پاکستان نے بھارت کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے، اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد تمام بین الاقوامی پروازیں کراچی ایئرپورٹ کی جانب موڑ دی گئی ہیں۔ پاکستانی حکومت نے 48 گھنٹے کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کرنے کا اعلان کیا اور مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔

ایئر لائنز کی جانب سے روٹس میں تبدیلی
کشیدگی کے باعث کئی ایشیائی ایئرلائنز نے یورپ جانے والی پروازوں کے روٹس میں تبدیلی کی ہے۔ تائیوان کی ایوا ایئر نے اپنی پروازوں کے روٹس کو ایڈجسٹ کرنے کا اعلان کیا تاکہ بھارت اور پاکستان کی فضائی حدود سے بچا جا سکے۔ ایوا ایئر نے ویانا سے روانہ ہونے والی پرواز کو واپس ویانا بھیج دیا اور تائپے سے میلان جانے والی پرواز کو ایندھن بھرنے کے لیے ویانا کی طرف موڑ دیا۔

کوریئن ایئر نے بھی سیول انچیون-دبئی پروازوں کے روٹس میں تبدیلی کی ہے۔ یہ پرواز اب پاکستان کی فضائی حدود کی بجائے میانمار، بنگلہ دیش اور انڈیا کے اوپر سے گزرتی ہے۔

تھائی ایئرویز اور چائنا ایئرلائنز کے اقدامات
تھائی ایئرویز نے بدھ کے روز یورپ اور جنوبی ایشیا جانے والی پروازوں کے روٹس میں تبدیلی کی اور بعض پروازوں میں تاخیر کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ چائنا ایئرلائنز نے ہنگامی منصوبہ بندی کے تحت مسافروں اور عملے کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے، تاہم ان اقدامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ تائیوان کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مطابق، لندن جانے والی چائنا ایئرلائنز کی نان سٹاپ پرواز بدھ کو منسوخ کر دی گئی ہے۔

قطر ایئر ویز کی فضائی حدود پر اثرات
قطر ایئر ویز نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے بعد اس نے عارضی طور پر اپنے روٹس میں تبدیلی کی ہے اور اب اس کے طیارے پاکستان کی فضائی حدود سے نہیں گزریں گے۔

مجموعی صورتحال
یہ تمام اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا اثر نہ صرف دونوں ممالک کی فضائی حدود بلکہ عالمی فضائی سفر پر بھی پڑ رہا ہے۔ ایئر لائنز اپنے مسافروں کی حفاظت اور محفوظ پروازوں کے لیے ایڈجسٹمنٹ کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی سطح پر سفر کے روٹس میں یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ اس تنازعے کا اثر دنیا بھر کے فضائی رابطوں پر پڑ رہا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دنیا بھر میں عالمی فضائی سفر پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں