“سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا انکشاف، شفافیت پر سوالات اٹھ گئے۔”

سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے ذریعے مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا تازہ انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی شفافیت اور میرٹ کے اصولوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کچھ ملازمتوں میں ایسے افراد کو منتخب کیا گیا ہے جو میرٹ کے معیار پر پورے نہیں اترتے، جبکہ بعض جگہوں پر سفارشات اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔
انکشافات کی تفصیل
مبینہ طور پر کچھ امیدواروں کو غیر قانونی طریقے سے تعینات کیا گیا، جن کے کاغذات یا تعلیمی اسناد میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے مختلف شکایات سندھ حکومت اور متعلقہ محکموں کو موصول ہوئیں، جن کی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔

کمیشن کے اندرونی عمل اور بھرتی کے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
شکایات اور عوامی ردعمل
عوام اور نوجوانوں میں اس انکشاف کے بعد شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ بھرتیوں میں غیر قانونی عمل سے مستحق افراد کو مواقع سے محروم کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ میرٹ کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومتی ردعمل اور آئندہ کے اقدامات
سندھ حکومت نے ان الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی کے خلاف بدعنوانی یا غیر قانونی بھرتیوں کے ثبوت ملتے ہیں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی جا سکتی ہے تاکہ حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
ایسی خبروں سے پبلک سروس کمیشن کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، اور یہ صوبائی انتظامیہ کے لیے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ جلد از جلد اس قسم کے معاملات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں