بھارتی دفاعی ماہر نے کھلے الفاظ میں اعتراف کر لیا: پاکستان نہ صرف موجود ہے، بلکہ اب اس کے ساتھ چین بھی کھڑا ہے۔

تحلیل: سچ کا سامنا، جارحیت کا انجام؟
بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ نگار پراوین ساہنی نے اپنے حالیہ بیان میں وہ سچ بول دیا جو برسوں سے بھارتی دفاعی و سیاسی حلقے نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی فضائیہ “ایکسپوز” ہو چکی ہے، یعنی اب اس کی صلاحیتیں اور کمزوریاں عیاں ہو چکی ہیں — اور آئندہ معرکہ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ فضاء اور کشمیر کے اندر بھی ہوگا۔

ساہنی نے جس کھلے پن سے بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کا اعتراف کیا، وہ نریندر مودی حکومت کے جارحانہ بیانیے کے برخلاف ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔ پلوامہ کے بعد بالا کوٹ حملے میں بھارتی فضائیہ کو جو مشکلات اور محدود نتائج کا سامنا ہوا، وہ اب نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی ماہرین کی زبان پر بھی آ چکا ہے۔

“تیاری کا مقابلہ” — نئی اسٹریٹجک دوڑ:
ساہنی نے واضح کیا کہ اب معاملہ اس طرف بڑھ رہا ہے کہ “جو جلدی تیاری کرے گا، وہ بازی لے جائے گا”۔ یعنی جنوبی ایشیا میں ایک نیا ہتھیاروں، تربیت اور عسکری چالاکیوں کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک اپنے بجٹ، عسکری معاہدوں اور دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے اپگریڈ کر رہے ہیں۔

چین کی پشت پناہی:
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ساہنی نے اعتراف کیا کہ اب پاکستان “اکیلا” نہیں رہا — “اس کے ساتھ چائنہ کھڑا ہے”۔ چین، جو کہ خطے میں بھارت کا سب سے بڑا اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے، اب پاکستان کے ساتھ مشترکہ مشقوں، ٹیکنالوجی، اور معاشی روابط کے ذریعے ایک طاقتور بلاک تشکیل دے رہا ہے۔

کشمیر — جنگ کا دوسرا محاذ:
ساہنی کے مطابق آئندہ جنگ صرف فضاؤں میں نہیں بلکہ کشمیر کے اندر بھی ہوگی، جو ایک سنگین خدشہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کنٹرول لائن سے ہٹ کر براہِ راست زمین پر عسکری، نیم عسکری اور نظریاتی تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان کا دفاعی بجٹ اور سیاسی استحکام:
ان کا کہنا کہ پاکستان نے “اپنا دفاعی بجٹ بڑھا دیا” یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں اس بات کا احساس موجود ہے کہ پاکستان اپنے دفاع پر سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں۔ ساہنی کا طنزیہ مگر سچ پر مبنی جملہ — “جب سے میں پیدا ہوا سن رہا ہوں کہ پاکستان ٹوٹنے والا ہے۔۔۔ پاکستان کہیں نہیں جا رہا” — درحقیقت بھارتی میڈیا اور حکومتی بیانیے پر بھی ایک طنز ہے۔

خطے میں بدلتی تذویراتی حقیقتیں:
پراوین ساہنی جیسے ماہرین کے بیانات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ بھارت میں بھی ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو زمینی حقائق کو تسلیم کرتا ہے۔ چاہے وہ چین-پاکستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہو یا کشمیر کے اندر ممکنہ بغاوت کا امکان — خطے کی سیاست اب سادہ نہیں رہی۔

نتیجہ: سچائی جسے چھپایا نہیں جا سکتا
پراوین ساہنی کا یہ بیان صرف ایک دفاعی تجزیہ نہیں، بلکہ بھارت کی موجودہ دفاعی، جغرافیائی اور سفارتی ناکامیوں کا غیر علانیہ اعتراف ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور مستقبل میں فیصلہ صرف “طاقت” نہیں بلکہ “حقیقت پسندی” کرے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں