“بھارت کی ایک اور سفارتی ناکامی: پاکستان مخالف مہم میں ‘کواڈ’ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔”
بھارت کو ایک اور بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا اُس وقت کرنا پڑا جب وہ اپنی پاکستان مخالف مہم کے لیے کواڈ (QUAD) ممالک — امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت پر مشتمل سیکیورٹی اتحاد — کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ یہ ناکامی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں خطے میں توازن اور امن کو ترجیح دے رہی ہیں، نہ کہ یکطرفہ سیاسی ایجنڈوں کو۔
کواڈ کا مؤقف — غیرجانبداری اور توازن
کواڈ کا بنیادی مقصد بحرالکاہل اور ہند بحر خطے میں استحکام، اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی تعاون ہے، نہ کہ کسی خاص ملک کے خلاف اتحاد بنانا۔ بھارت کی کوشش رہی کہ پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑ کر کواڈ کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے، لیکن:
امریکا اور جاپان نے اس معاملے میں احتیاط برتی
آسٹریلیا نے بھی اس بیانیے کی حمایت سے گریز کیا
کسی بھی رکن ملک نے پاکستان کا نام لے کر کوئی بیانیہ جاری نہیں کیا
بھارت کی عالمی سطح پر ناکامیاں بڑھتی جا رہی ہیں
یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔ حالیہ برسوں میں:
OIC میں بھارت کو مسلم ممالک کی حمایت حاصل نہ ہو سکی
افغانستان اور ایران کے معاملات پر بھی بھارت کا اثر محدود رہا
نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے بھی بھارت کے تعلقات کشیدہ رہے
یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کا جارحانہ سفارتی انداز اکثر الٹا اثر ڈالتا ہے۔
پاکستان کی خاموش سفارتکاری کا فائدہ
پاکستان نے عالمی فورمز پر مستقل طور پر امن، تعاون اور خطے کے استحکام کی بات کی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت:
پاکستان نے افغانستان، ایران، چین اور ترکی سے مثبت تعلقات بنائے
عالمی برادری میں پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سراہا جا رہا ہے
کواڈ کی غیر جانبدارانہ پالیسی نے بھارت کی کوششوں کو ناکام بنایا اور پاکستان کے خلاف منفی مہم کی حوصلہ شکنی کی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی طاقتیں اب ثبوت، استحکام اور اصولی مؤقف کو فوقیت دیتی ہیں، نہ کہ علاقائی طاقتوں کے سیاسی پروپیگنڈے کو۔



