“جیسے جیسے AI چیٹ بوٹس ہماری زندگی کا حصہ بن رہے ہیں، ویسے ویسے ان کے ماحولیاتی اثرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں — لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کتنی بجلی اور پانی خرچ کرتے ہیں؟”
AI چیٹ بوٹس، جیسے کہ ChatGPT، جتنے سمارٹ اور مددگار ہیں، اتنے ہی توانائی کے بھوکے بھی ہیں۔ جب بھی آپ ایک سوال کرتے ہیں، وہ ڈیٹا سینٹرز میں موجود ہزاروں سرورز کو حرکت میں لاتا ہے — اور یہی وہ مقام ہے جہاں بجلی اور پانی کی بڑی مقدار استعمال ہوتی ہے۔
1. بجلی کا استعمال:
AI ماڈلز کو تربیت (training) دینے اور پھر مسلسل آپ کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے لاکھوں گیگا واٹ گھنٹے بجلی درکار ہوتی ہے۔ صرف GPT جیسے بڑے ماڈل کو ٹرین کرنے میں ہی اندازاً 1.3 گیگا واٹ آور بجلی لگتی ہے — جو ایک یورپی ملک کے چھوٹے قصبے کی سالانہ بجلی کے برابر ہے۔
2. پانی کا استعمال:
ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب آپ AI سے صرف چند سوالات کرتے ہیں، تب بھی پسِ پردہ یہ سسٹم اپنے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے تقریباً آدھا لیٹر تک پانی استعمال کرتے ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق، صرف GPT ماڈل کو ٹرین کرنے میں 700,000 لیٹر تک پانی استعمال ہوا — جو تقریباً 3000 افراد کی روزانہ کی پانی کی ضرورت کے برابر ہے۔
3. استعمال بڑھنے سے اثرات میں اضافہ:
جیسے جیسے AI چیٹ بوٹس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے (تعلیم، صحت، کاروبار، تفریح)، ویسے ہی ان کی توانائی اور پانی کی مانگ بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر بار جب لاکھوں لوگ بیک وقت AI سے سوالات کرتے ہیں، توانائی کا ایک بہت بڑا بوجھ ماحول پر آتا ہے۔
4. ممکنہ حل:
گرین انرجی ڈیٹا سینٹرز کا استعمال
زیادہ مؤثر ماڈل ڈیزائن
کولنگ کے بہتر طریقے (جیسے ایئر کولنگ کی جگہ لیکوئڈ کولنگ)
AI چیٹ بوٹس سہولت کا ذریعہ ہیں، مگر ان کی قیمت زمین چکا رہی ہے — بجلی اور پانی کے وسائل کے زبردست استعمال کے ذریعے۔ ہمیں ان کے استعمال میں ہوشیاری اور اداروں کو ان کے انفراسٹرکچر کو ماحول دوست بنانے پر زور دینا ہوگا۔




