“ایشیا کپ اور سہ ملکی سیریز میں بابر اعظم و محمد رضوان کی واپسی کا امکان قوی؛ سیلیکشن ذرائع کے مطابق ٹیم میں ان کی شمولیت متوقع ہے”

پاکستانی کرکٹ کے شائقین میں اس وقت جو سب سے گرم موضوع زیرِ بحث ہے، وہ ہے بابر اعظم اور محمد رضوان کی ممکنہ واپسی ایشیا کپ اور سہ ملکی سیریز میں۔ دونوں کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کو تجربہ، اعتماد اور حکمت عملی کا امتیازی امتزاج فراہم کرتی ہے۔

1. ٹیم کے نئے ڈھانچے میں کردار کا جائزہ

نئے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے واضح انداز میں کہا ہے کہ سلیکشن محض شہرت یا عمر کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکمتِ عملی اور مخصوص کرداروں کی روشنی میں ہوگی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر بابر اور رضوان ٹیم کی پالیسی یا مطلوبہ طرزِ کھیل میں فٹ بیٹھتے ہیں، تو ان کی واپسی کا راستہ کھلا ہے۔

2. ٹی20 فارمیٹ سے ان کی عارضی علیحدگی

مارچ 2025 میں نئ Zealand کے دورے کے لیے بابر اور رضوان کو ٹی20 اسکواڈ سے نکال دیا گیا، جس سے نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ تاہم، دونوں کو ون ڈے اسکواڈ میں برقرار رکھا گیا، جو بورڈ کی ان کی صلاحیتوں پر بھروسے کا ثبوت ہے۔

3. تجربہ بمقابلہ نوجوانی—اعلیٰ مواقع کی اہمیت

جب کھیل زیادہ دباؤ والا ہو، جیسے ایشیا کپ یا ٹورنامنٹس، تو تجربہ کار بلے بازوں کی عدم موجودگی ٹیم کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ ایشیا کپ میں ایک سینئیر بلے باز کی ضرورت ہے، جو بابر اعظم ہی ہو سکتے ہیں۔

محمد رضوان نے اپنے ساتھی بابر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر بہت زیادہ توقعات عائد کی جاتی ہیں، جس نے ان کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا ہے۔ اس کے باوجود، وہ ٹیم کے لیے مستقل اور قیمتی شراکت دار ہیں۔

مجموعی خیال یہ ہے کہ:

ٹیم منظم انداز میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دے رہی ہے، خصوصاً ٹی20 فارمیٹ میں، مگر…

بڑے ٹورنامنٹس کے لیے تجربہ کار بلے بازوں کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، جنہیں بابر اعظم اور محمد رضوان کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر منجمنٹ ان کی کارکردگی، فٹنس اور حکمتِ عملی میں انتظار دیکھتی ہے، تو دونوں کی واپسی وقت کی ضرورت بن سکتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں