8 دن سے زائرین کے لیے بلوچستان کے راستے بند — زائرین کا راستے کھولنے کا مطالبہ

زائرین شدید پریشان، بلوچستان کے زمینی راستوں کی بندش بدستور برقرار

بلوچستان سے گزرنے والے زائرین کے لیے گزشتہ 48 دنوں سے تمام مرکزی راستے بند ہیں، جس کے باعث زائرین کو نہایت سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔

زائرین اور ان کے اہلِ خانہ نے حکومت سے فوری طور پر راستے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکیں۔


📍 “یہ صرف راستہ نہیں، عقیدت اور عبادت کا سفر ہے” — زائرین کی دہائی

زائرین کا کہنا ہے کہ:

“ہم کئی ہفتوں سے انتظار کر رہے ہیں، مگر کوئی واضح اعلان یا حکومتی اقدام نظر نہیں آ رہا۔ ہم پرامن شہری ہیں، بس اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔”

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے راستے صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ ہزاروں زائرین کا گزرگاہ ہے، اور اس کی مسلسل بندش ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔


🛑 ممکنہ وجوہات اور حکومتی خاموشی

اب تک راستوں کی بندش کی سرکاری وجہ سامنے نہیں آ سکی، تاہم ممکنہ طور پر:

  • سیکیورٹی خدشات

  • یا انتظامی امور اس کی وجہ ہو سکتے ہیں۔

تاہم زائرین کا مطالبہ ہے کہ اگر کوئی خطرہ یا مسئلہ درپیش ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ متبادل انتظامات کرے، نہ کہ راستے بند رکھے۔


🗣 مطالبہ: راستے فی الفور کھولے جائیں

زائرین نے حکومت، وزارتِ داخلہ، اور بلوچستان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • فوری طور پر بلوچستان کے تمام زائرین راستے کھولے جائیں

  • اگر کسی علاقے میں مسئلہ ہے تو سیکیورٹی فراہم کی جائے

  • اس معاملے پر واضح سرکاری مؤقف جاری کیا جائے تاکہ افواہیں ختم ہوں


🕊 — مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے

زائرین کا کہنا ہے کہ وہ امن و امان کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف اپنے عقیدے کے مطابق زیارت پر جانا چاہتے ہیں۔
حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس مذہبی جذبے اور بنیادی حق کا احترام کرے، اور بلوچستان کے راستے جلد از جلد کھولے جائیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں