کیا کوئی حکومت خود کو ایوارڈ دے سکتی ہے؟

تاریخی طور پر، ریاستی اعزازات کا بنیادی اصول یہی ہے کہ وہ کسی شخص یا ادارے کو قومی خدمات، قربانی، یا غیرمعمولی کارکردگی پر دیے جائیں — نہ کہ برسرِاقتدار افراد خود کو یا اپنی کابینہ کو۔ جب کوئی حکومت اپنے وزراء یا خود کو اجتماعی طور پر اعزازات دیتی ہے، تو یہ اقدام:

اخلاقی طور پر متنازعہ سمجھا جاتا ہے،

سیاسی مقاصد پر مبنی محسوس ہوتا ہے،

اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

⚖️ آئینی و قانونی پس منظر

پاکستان کے آئین یا قوانین میں یہ واضح نہیں کہ حکومت اپنے ارکان کو ایوارڈ نہیں دے سکتی — لیکن:

آرٹیکل 259 (آئینِ پاکستان) ریاستی اعزازات کا ذکر کرتا ہے، اور یہ کہ:

ان کا اجرا صدرِ پاکستان کرتے ہیں؛

یہ “قومی خدمات” یا “کارناموں” پر دیے جاتے ہیں۔

The Decorations Act, 1975
اس ایکٹ کے تحت، ریاستی ایوارڈز دینے کے قواعد و ضوابط طے کیے گئے ہیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ایوارڈ:

کسی مخصوص میدان (تعلیم، طب، سائنس، ادب، فنون، فوجی خدمات وغیرہ) میں نمایاں خدمات پر دیے جاتے ہیں؛

سیاسی یا ذاتی بنیاد پر نہیں۔

لہٰذا، اگر کابینہ کو اجتماعی طور پر ریاستی ایوارڈ دیا جائے، بغیر کسی انفرادی نمایاں خدمت کے، تو یہ بظاہر ان قوانین کی روح کے خلاف ہے — اگرچہ تکنیکی طور پر ممکن ہو۔

🧠 عالمی مثالیں

دنیا میں بعض آمرانہ حکومتوں نے خود کو اعزازات دیے ہیں، مثلاً:

شمالی کوریا: وہاں کے حکمران خود کو اعزازات اور القابات دیتے رہے ہیں۔

کچھ افریقی ریاستیں: جہاں طویل عرصے حکمران رہنے والوں نے اپنی حکومت یا خاندان کو تمغے دیے۔

لیکن جمہوری ممالک میں، خاص طور پر ایسی ریاستیں جہاں آئینی بالادستی ہو، وہاں ایسا عمل سخت تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔

🗣️ عوامی تاثر اور جمہوری اقدار

جب حکومت خود کو ایوارڈ دیتی ہے:

تو یہ جمہوری روح کے منافی محسوس ہوتا ہے؛

احتساب کی بجائے خودستائی کی علامت بنتا ہے؛

اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ “کیا عوام بھی ان خدمات کو تسلیم کرتے ہیں؟”
ایوارڈز دینا ریاست کا ایک باوقار عمل ہے، اور اس کا مقصد قومی سطح پر قربانی یا خدمت کا اعتراف ہوتا ہے — نہ کہ حکومت کا اپنی ہی کارکردگی پر خود کو شاباش دینا۔

کسی کابینہ کو اجتماعی طور پر اعزاز دینا، بغیر کسی غیرمعمولی قومی خدمت کے، بلاشبہ عوامی اعتماد، آئینی روح، اور شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں