کینڈل الارم: وقت کا قدیم جگانے والا

پرانے وقتوں میں لوگ موم بتیوں (candles) کو صرف روشنی کے لیے نہیں، بلکہ ٹائم مینیجمنٹ کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ موم بتی پر خاص فاصلوں پر کیل (nails) لگا دیے جاتے تھے۔

اب ہوتا یوں تھا کہ جیسے جیسے موم بتی جلتی، ویسے ویسے وہ کیل نیچے گرنے کے قریب پہنچتے۔ جیسے ہی کیل موم کے نرم حصے تک پہنچتا، وہ نیچے گرتا — اور چونکہ یہ کیل اکثر کسی دھات یا پلیٹ پر گرتا، تو ایک ٹن کی آواز پیدا ہوتی۔

یہ آواز قدرتی الارم کی طرح کام کرتی تھی!

نہ بجلی، نہ بیٹری، نہ Snooze — بس وقت کا سادہ، مگر مؤثر استعمال۔

آج ہم 7 الارم سیٹ کرتے ہیں، موبائل کو تکیے کے نیچے رکھ کر سوتے ہیں، snooze پر snooze مارتے ہیں، اور پھر بھی “بس 5 منٹ اور” کی جنگ جیت ہی نہیں پاتے۔

ایسے میں دل کرتا ہے کہ واپس candle alarm کا زمانہ آ جائے — کم از کم کیل تو نیند میں بھی جگا دیتا تھا، اور ہم؟ اب تو شاید کیل بھی گر کے شرمندہ ہو جائے کہ “یار، اب یہ بھی نہ جاگا!” 😅

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں