چین اور انڈیا نے دوبارہ شروع کیں براہِ راست پروازیں، دوطرفہ تعلقات میں خوش آئند پیش

بیجنگ / نئی دہلی:
چین اور انڈیا نے بدھ کے روز باہمی براہِ راست پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفری اور تجارتی روابط کو بحال کرنے کی اہم علامت ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر پچھلے کئی سالوں سے کشیدگی اور سفری پابندیوں کے بعد دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

📍 پروازیں بند ہونے کی وجوہات اور بحالی کا پس منظر:

کووڈ-19 وبا کے دوران لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے باعث چین اور انڈیا کے درمیان تمام براہِ راست پروازیں معطل کر دی گئی تھیں، جس سے تجارتی، کاروباری اور سیاحتی روابط متاثر ہوئے۔

اس کے علاوہ، 2020 میں دونوں ممالک کے سرحدی تنازعات نے تعلقات کو مزید کشیدہ کیا، جس نے پروازوں کے دوبارہ آغاز میں تاخیر کی۔

اب وبا کی صورتحال بہتر ہونے اور سفارتی سطح پر مثبت اقدامات کے بعد، دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ پروازوں کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

✈️ پروازوں کی بحالی کا اثر:

براہِ راست پروازوں کی بحالی سے تجارتی حجم میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ پروازوں کی بندش نے دونوں ملکوں کے کاروباری رابطوں کو محدود کیا تھا۔

سیاحتی صنعت کو بھی فائدہ پہنچے گا، خاص طور پر دونوں ممالک کے شہری جو کاروبار، تعلیم یا سیاحت کے لیے ایک دوسرے کا دورہ کرتے ہیں۔

اس سے نہ صرف معاشی روابط مضبوط ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے اور عوامی تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔

🗣️ حکومتی اور ماہرین کی رائے:

دونوں ممالک کی حکومتوں نے اس اقدام کو دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرحدی کشیدگی ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی، مگر سفری رابطوں کی بحالی سے اعتماد کی فضا بہتر ہو گی۔

تجارتی تنظیموں اور کاروباری حلقوں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، اور توقع ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں مزید تعاون کے دروازے کھلیں گے۔

چین اور انڈیا کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی ایک خوش آئند علامت ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے مضبوط کرنے کی امید جگاتی ہے۔ یہ نہ صرف سفری سہولتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ خطے کی اقتصادی اور سیاسی صورتحال میں بھی مثبت اثرات ڈالے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں