چین نے چاند کے فاصلے کی پہلی بار لیزر پیمائش کر کے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا 🌕
چین نے ایک نیا سائنسی سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلی بار زمین سے چاند کے فاصلے کی لیزر پیمائش کی ہے، جس نے عالمی سطح پر چین کی خلائی تحقیق میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔ چینی اکیڈمی آف سائنسز (CAS) کی جانب سے اعلان کردہ اس کامیابی میں چین نے DRO-A سیٹلائٹ کے ذریعے تقریباً 350,000 کلومیٹر دور چاند کے فاصلے کی درست پیمائش کی۔ یہ کامیابی ایک منفرد سنگل کارنر کیوب ریفلیکٹر اور زمین پر موجود 1.2 میٹر ٹیلی سکوپ سسٹم کی مدد سے ممکن ہوئی۔
پیمائش کی تکنیکی تفصیلات
اس لیزر پیمائش کو انجام دینے کے لیے، چاند کے فاصلے پر موجود DRO-A سیٹلائٹ کو استعمال کیا گیا، جو زمین سے تقریباً 350,000 کلومیٹر دور واقع ہے۔ سیٹلائٹ پر موجود کیوب ریفلیکٹر لیزر کی شعاع کو واپس منعکس کرتا ہے، جس کے بعد زمین پر موجود ٹیلی سکوپ سسٹم اس شعاع کی پیمائش کر کے فاصلہ معلوم کرتا ہے۔
عالمی سطح پر چین کی کامیابی
یہ کامیابی چین کو چاند کے فاصلے کی انتہائی درست پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھنے والے چند منتخب ممالک کی صف میں شامل کر دیتی ہے۔ اس سے چین کی خلائی تحقیق میں عالمی مقام مزید مستحکم ہوگا اور یہ خلائی تحقیق میں چین کے اہم مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
مستقبل کے مشنز کے لیے اہم پیش رفت
ماہرین کے مطابق، اس پیمائش کی درستگی مستقبل میں چاند پر جانے والے مشنز اور گہرے خلا میں نیویگیشن کے لیے اہم ثابت ہوگی۔ خلا میں جانے والے مشنز کے لیے درست فاصلوں کا علم نہایت ضروری ہوتا ہے، اور یہ پیش رفت اس سلسلے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چین کا یہ اقدام عالمی خلائی تحقیق میں ایک نیا باب رقم کرتا ہے، جو نہ صرف چین کے لیے، بلکہ دنیا بھر کے سائنسی کمیونٹی کے لیے بھی خوش آئند ہے۔




