چین کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل DF-5B — دنیا کے لیے ایک واضح پیغام؟
صرف ایک میزائل، لیکن درجنوں ہدف — چین نے اپنی جوہری طاقت کی نئی جھلک دکھا دی!”
چین نے پہلی مرتبہ کھل کر اپنے مہلک ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل DF-5B کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے ظاہر کیا ہے، جسے عالمی توازنِ طاقت کے لیے ایک سنگین اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
🛰️ DF-5B: تباہ کن صلاحیتوں کا حامل
مار کرنے کی حد: 12,000 کلومیٹر — یورپ یا امریکہ کا کوئی بھی حصہ اس کی زد میں۔
دھماکہ خیز قوت: 3 سے 4 میگاٹن — ہیروشیما بم سے 200 گنا زیادہ تباہ کن۔
MIRV ٹیکنالوجی: ایک میزائل میں کئی وارہیڈز، ہر وارہیڈ الگ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
درستگی: 500 میٹر، سیٹلائٹ نیویگیشن سے لیس۔
جثہ: 32.6 میٹر لمبا، 3.35 میٹر قطر، وزن تقریباً 183 ٹن۔
یہ چین کا سب سے بھاری، اور شاید سب سے مہلک میزائل تصور کیا جا رہا ہے۔
🧠 کیا یہ محض دفاعی پیغام ہے؟
DF-5B چین کے “ڈیٹرنس نیوکلئیر پروگرام” کا حصہ ہے، جس کا مقصد دشمن کو حملے سے باز رکھنا ہے۔ چین اب بھی اپنی “نو فرسٹ یوز” پالیسی پر قائم ہے، یعنی وہ پہل کر کے جوہری حملہ نہیں کرے گا۔ مگر DF-5B کی نمائش بلاشبہ ایک اسٹریٹجک پیغام ہے — خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو چین کے ارد گرد عسکری دائرہ تنگ کر رہے ہیں۔
📊 چین کا نیوکلیئر اسٹاک:
600 سے زائد فعال جوہری ہتھیار
320 سے زائد میزائل سائلوز
2030 تک ہتھیاروں کی تعداد 1,000 سے تجاوز کا امکان
یہ اعداد و شمار امریکی محکمہ دفاع کی حالیہ رپورٹ سے لیے گئے ہیں، جو عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے ایک الارم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
🌍 عالمی تناظر:
چین کی جانب سے DF-5B کی صلاحیتوں کا ظاہر کرنا محض عسکری مظاہرہ نہیں، بلکہ جیوپولیٹیکل توازن کو متاثر کرنے والی پیش رفت ہے۔ یہ اقدام بیک وقت امریکہ، نیٹو، اور انڈو-پیسیفک خطے کے ممالک کے لیے ایک سخت پیغام ہو سکتا ہے — خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر دفاعی بلاکس ازسرِنو ترتیب پا رہے ہیں۔
🔚 نتیجہ:
DF-5B کا منظرعام پر آنا چین کے دفاعی عزائم کا واضح اظہار ہے۔ اگرچہ چین اس کا مقصد محض “ڈیٹرنس” قرار دیتا ہے، مگر اس قسم کے میزائل نظام نہ صرف طاقت کا مظہر ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
کیا یہ صرف دفاعی پیغام ہے یا طاقت کی نمائش؟
دنیا اب چین کے اقدامات کو محض بیانات سے نہیں، عمل سے پرکھے گی۔




