“جنوبی ایشیا کی بدلتی سفارتی بساط پر چین کی چالیں تیز – وانگ ژی پاکستان میں، پیغام کیا ہے؟”

بدھ کی شب چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے، جس سے قبل وہ بھارت کے دو روزہ دورے پر موجود تھے۔ یہ دورہ نہ صرف علاقائی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ چین کی موجودہ خارجہ پالیسی کے واضح اشارے بھی فراہم کرتا ہے۔ وانگ ژی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں متعدد جغرافیائی و سیاسی معاملات تیزی سے بدل رہے ہیں، جن میں پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC)، بھارت-چین سرحدی کشیدگی، افغانستان کی صورتحال، اور امریکا کی انڈو پیسفک حکمتِ عملی شامل ہیں۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات: آزمودہ شراکت داری میں نئی روح؟

وانگ ژی کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان “آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک CPEC کے دوسرے مرحلے، صنعتی زونز، توانائی منصوبوں اور سیکیورٹی تعاون پر بات چیت کریں گے۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے تحفظ، خصوصاً بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیکورٹی خدشات، اس ملاقات کے مرکزی نکات میں شامل ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق وانگ ژی وزیراعظم، صدر، وزیر خارجہ اور آرمی چیف سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ اس دوران افغانستان میں طالبان حکومت سے متعلق علاقائی ہم آہنگی، بھارت کے ساتھ کشیدگی اور اقوامِ متحدہ میں دوطرفہ حمایت جیسے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔

بھارت کا دورہ: پسِ پردہ پیغامات اور توازن کی کوشش

اس سے قبل وانگ ژی بھارت کے دو روزہ دورے پر تھے، جہاں انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ اگرچہ چین اور بھارت کے تعلقات لداخ میں 2020 کی گلوان وادی جھڑپ کے بعد سرد مہری کا شکار رہے ہیں، تاہم یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چین کی جانب سے دونوں حریف ممالک (پاکستان اور بھارت) کا لگاتار دورہ ایک متوازن پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جو چین کی بڑی طاقت کے طور پر سفارتی برتری حاصل کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ وانگ ژی کی کوشش ہے کہ چین کو جنوبی ایشیا میں ثالث یا اہم کردار ادا کرنے والا ملک تسلیم کیا جائے، بالخصوص ایسے وقت میں جب امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کا “کواڈ اتحاد” خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو چیلنج کر رہا ہے۔

کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟

وانگ ژی کے اس دو طرفہ دورے کو ایک واضح سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے: چین اب صرف اقتصادی طاقت نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی کھلاڑی کے طور پر جنوبی ایشیا میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ روایتی گہرے تعلقات کو مزید مضبوط کر کے اور بھارت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھ کر چین خود کو خطے میں استحکام کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وانگ ژی کا پاکستان اور بھارت کا دورہ صرف روایتی سفارت کاری نہیں، بلکہ ایک وسیع تر علاقائی اسٹریٹجی کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ CPEC کو نئی جہت دے، جبکہ چین کے لیے یہ ایک قدم ہے خطے میں اپنی نرم طاقت اور سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے کی جانب۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں