پردیس میں انتقال اور میت کی وطن واپسی: دردِ دل اور حقیقت کی تلخ داستان

جب کسی عزیز کا پردیس میں انتقال ہو جاتا ہے تو سب کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تدفین اس کے آبائی علاقے میں ہو، تاکہ رشتہ دار اور لواحقین اپنے آنسوؤں کو سہارا دے سکیں۔ مگر کیا ہم نے کبھی اس حقیقت پر غور کیا ہے کہ اس خواہش کے پیچھے چھپی تکلیف کیا ہوتی ہے؟

سرد خانے کی اذیت
انتقال کے بعد میت کو عموماً سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے، جہاں درجہ حرارت منفی ہوتا ہے۔ چند دنوں کے لیے اس سرد خانے میں پڑے رہنا ایک اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے۔ یہ تکلیف صرف میت کو ہی نہیں بلکہ ان پیاروں کو بھی برداشت کرنی پڑتی ہے جو اس اذیت میں مبتلا شخص کو واپس لانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔

میت کی وطن واپسی اور Embalment کا عمل
پردیس سے میت کو پاکستان لانے کے لیے Embalment کا عمل ضروری ہوتا ہے، جس میں جسم سے خون نکالا جاتا ہے اور کیمیکل داخل کر کے جسم کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔ اس عمل میں:

میت کو برہنہ کیا جاتا ہے،

گلے پر کٹ لگا کر بڑی شریان کو نکالا جاتا ہے،

کیمیکل داخل کرنے کے لیے کینولا نصب کیا جاتا ہے،

جسم سے خون نکال کر کیمیکل بھرا جاتا ہے،

پیٹ اور سینے میں کٹ لگا کر نرم اعضاء پنکچر کیے جاتے ہیں،

منہ بند کرنے کے لیے گوند نما مواد لگا کر سلائی کی جاتی ہے۔

یہ سب عمل جسم کے لیے شدید تکلیف اور بےحرمتی ہے، لیکن ہم اسے اپنے جذبات کی خاطر برداشت کرتے ہیں۔

کیا یہ قیمت درست ہے؟
کیا آخری دیدار کے لیے اتنی اذیت دینا ضروری ہے؟ کیا یہ صرف اس لیے کہ ہم چہرہ آخری بار دیکھ سکیں یا سماجی رواج کی خاطر یہ سب کرنا چاہیے؟ کیا یہ سب ہمارے پیاروں کے لیے مہنگا اور غیر ضروری سودا نہیں؟

موت کا فلسفہ اور تسلیم
اصل حقیقت یہ ہے کہ موت جہاں لکھی ہو، وہیں آتی ہے۔ اگر کوئی عزیز پردیس میں فوت ہو جائے تو بہتر یہی ہے کہ وہاں دفن کیا جائے۔ دعا اور صدقہ کر کے اپنے دل کو سکون دیں اور میت کو اضافی اذیت سے بچائیں۔

جنازے کا مقصد اور اللہ کا تقاضہ
بڑے جنازے دنیا میں غرور کا باعث بن سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کا ترازو مختلف ہے۔ جنازہ صرف اتنی دیر ہونا چاہیے جتنا قبر کھودنے اور کفن دفن کرنے میں لگتی ہے۔

دعا
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو موت کے بعد عزت و احترام نصیب کرے، اور ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنے والا بنائے، تاکہ نہ ہم خود کسی بےحرمتی کا شکار ہوں اور نہ ہی اپنے پیاروں کو اذیت پہنچائیں۔ آمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں