“شہداء کو دہشت گرد قرار دینا ظلم کی انتہا ہے – صدیق شیڈائی کا آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب”

“ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے – مولانا فضل الرحمان”
عوامی نیشنل پارٹی (ANP) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے رہنما صدیق شیڈائی نے ملکی سیکیورٹی اداروں اور ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب عام شہریوں کے گھروں پر راکٹ گرتے ہیں، عورتیں اور بچے شہید ہوتے ہیں، تو بعد میں فوجی آ کر لاشیں اٹھاتے ہیں اور پھر زبردستی لواحقین سے یہ بیان دلوایا جاتا ہے کہ “یہ لوگ دہشت گرد تھے”۔

صدیق شیڈائی نے کہا کہ یہ روش ناقابلِ قبول ہے، اور یہ مظالم نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے پشتون بیلٹ کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک مقتدر قوتیں اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہیں کرتیں، اور پشتون علاقوں میں جاری فوجی آپریشنز، ماورائے عدالت قتل، اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا، تب تک ملک میں حقیقی امن ممکن نہیں۔

شیڈائی نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ ان مظالم کے خلاف کھل کر آواز اٹھائیں، اور آل پارٹیز پلیٹ فارم کو ایک مضبوط اور مشترکہ بیانیے کی صورت دیں، تاکہ ہر شہری کو اس کے آئینی حقوق اور تحفظ کی ضمانت دی جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امن کے نام پر جنگ اور ظلم کے یہ سلسلے مزید نہیں چلیں گے، اور اگر حالات نہ بدلے گئے تو احتجاجی تحریکیں مزید شدت اختیار کریں گی۔

کانفرنس کا مجموعی پیغام:
آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تمام رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سکیورٹی بحرانوں کا حل صرف اور صرف عوامی نمائندگی، آئینی بالادستی، اور شفاف جمہوریت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں