اسلام آباد کی یونیورسٹی میں منشیات فروشی کا انکشاف

اسلام آباد میں واقع ایک سرکاری یونیورسٹی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کی جانب سے منشیات فروشی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ سنجیدہ اور خطرناک انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا، جہاں حکام نے بتایا کہ یہ شخص وٹس ایپ کے ذریعے یونیورسٹی کے طلبہ کو نشہ آور اشیاء فراہم کرتا رہا۔

واقعے کی تفصیل:

ایک طالب علم کی شکایت پر اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) نے کارروائی کرتے ہوئے اس ٹیکسی ڈرائیور کو گرفتار کیا۔

یہ ڈرائیور یونیورسٹی کے قریب طلبہ کو مخصوص “کوڈ ورڈز” کے ذریعے منشیات پہنچاتا تھا، اور اس کا نیٹ ورک کئی ماہ سے فعال تھا۔

شکایت کے بعد طلبہ کے والدین کو بھی آگاہ کیا گیا تاکہ مزید متاثرہ نوجوانوں کو بروقت سنبھالا جا سکے۔

خطرناک رجحان: صرف ایک واقعہ نہیں

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس جیسے متعدد کیسز ملک بھر میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے مطابق:

صرف ایک سال میں 1,470 کلوگرام منشیات تعلیمی اداروں سے ضبط کی گئی۔

ان منشیات کی مالیت تقریباً 7 ارب روپے تھی۔

263 تعلیمی اداروں میں آپریشنز کیے گئے، جن میں کالجز، یونیورسٹیز اور اسکولز شامل ہیں۔

19 منشیات فروش گینگ توڑے گئے، جن میں سے اکثر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

عدالتی نظام پر سوالات

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین خرم نواز نے تشویش ظاہر کی کہ:

“منشیات فروشوں کو پکڑنے کے باوجود عدالتی نظام کی سست روی کی وجہ سے وہ دو ماہ میں ہی رہا ہو جاتے ہیں، جو افسوسناک ہے۔”

رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ جب اینٹی نارکوٹکس فورس کو ہر سال 26 ارب روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے، تو پھر ایسے واقعات کیوں نہیں روکے جا پا رہے؟

انسدادِ منشیات کی حکمتِ عملی:

ANF نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ:

کورئیر کمپنیوں کے ذریعے اسمگل ہونے والی منشیات کو ٹریس کر رہے ہیں۔

ڈارک ویب پر ہونے والی خرید و فروخت کو مانیٹر کر رہے ہیں۔

گھروں میں اگائے جانے والے نشہ آور پودوں کے خلاف بھی کارروائی کر رہے ہیں۔

طلبہ اور والدین کی آگاہی کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی جا رہی ہے۔

نتیجہ: والدین، ادارے اور ریاست سب کی ذمہ داری

یہ واقعہ صرف ایک شخص یا ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی المیے کی علامت ہے۔ تعلیم کے مراکز میں منشیات کا سرایت کر جانا نہ صرف نوجوان نسل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی کمزور کر رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ:

تعلیمی ادارے سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنائیں۔

والدین اپنے بچوں کی حرکات و سکنات پر توجہ دیں۔

ریاست سخت قانون سازی اور موثر عدالتی نظام کے ذریعے ایسے عناصر کو نشان عبرت بنائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں