پنجاب میں تباہ کن سیلاب: مزید 3 لاکھ افراد کا انخلا، بے گھر افراد کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کر گئی
پنجاب – صوبہ پنجاب اس وقت تاریخ کے ایک بدترین سیلاب سے گزر رہا ہے، جہاں شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث وسیع پیمانے پر تباہی پھیل چکی ہے۔ متاثرہ علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا جاری ہے، اور گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید 3 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
بے گھر افراد کی تعداد 13 لاکھ سے متجاوز
حکومتی ذرائع کے مطابق، حالیہ انخلا کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ لوگ اب عارضی شیلٹرز، اسکولوں، خیمہ بستیوں اور مختلف سرکاری عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ہزاروں گھر، کھیت، اور مویشی مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جب کہ متعدد سڑکیں اور پل زیرِ آب آ گئے ہیں۔
ریسکیو آپریشن میں تیزی، پاک فوج اور دیگر ادارے متحرک
ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، اور پاک فوج کے دستے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ بعض دور دراز دیہی علاقوں میں راشن، پینے کا صاف پانی اور طبی امداد پہنچانے میں بھی شدید مشکلات درپیش ہیں۔
متاثرہ اضلاع: جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثر
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں:
-
راجن پور
-
ڈی جی خان
-
مظفرگڑھ
-
بھکر
-
لیہ
-
میانوالی
شامل ہیں، جہاں ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرِ آب آ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس سیلاب سے زرعی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
حکومتی اقدامات اور امدادی اعلانات
وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ:
-
تمام متاثرین کو فوری طور پر خیمے، راشن، اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی
-
نقصانات کا سروے جلد مکمل کر کے معاوضے کا اعلان کیا جائے گا
-
اسکولوں، کالجوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو عارضی شیلٹر میں تبدیل کیا جا رہا ہے
-
غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں
عوامی مشکلات: بیماریوں اور خوراک کی کمی کا خدشہ
سیلاب سے بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شدید گرمی، گندے پانی اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ادویات، پینے کے صاف پانی اور خوراک کی قلت ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
ماہرین کی وارننگ: مزید بارشوں سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کا امکان ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور ریسکیو آپریشن بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
عوام سے اپیل: احتیاطی تدابیر اپنائیں، حکومتی ہدایات پر عمل کریں
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ:
-
سیلاب زدہ علاقوں سے دور رہیں
-
افواہوں پر کان نہ دھریں
-
سرکاری وارننگ سسٹم پر نظر رکھیں
-
مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں
پنجاب اس وقت ایک شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، فصلیں برباد، جانور ہلاک، اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ موجودہ صورتحال مرکزی و صوبائی حکومتوں، عوام، ریسکیو اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے فوری، مربوط اور مؤثر کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔




