“ڈیجیٹل شناخت یا ڈیجیٹل نگرانی؟ سہولت کی آڑ میں کنٹرول کا نیا ہتھیار!”
وفاقی حکومت کی جانب سے شہریوں کی ڈیجیٹل شناخت کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI) کی تیاری کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں قومی شناختی کارڈ، بائیومیٹرک ڈیٹا اور موبائل نمبرز کو ایک ہی نظام میں ضم کیا جائے گا۔
بظاہر یہ اقدام عوامی سہولت، بہتر سروس ڈیلیوری اور ڈیجیٹل مستقبل کی تیاری کے نام پر کیا جا رہا ہے، مگر اس کے اندر کئی خطرناک امکانات چھپے ہوئے ہیں:
🔍 1. پرائیویسی کا مکمل خاتمہ:
جب ایک ہی سسٹم میں ہر شہری کا شناختی کارڈ، فنگر پرنٹس، چہرہ، فون نمبر، لوکیشن ڈیٹا اور دیگر ذاتی معلومات جمع کر دی جائیں گی، تو کسی کی پرائیویسی باقی نہیں رہے گی۔
حکومت کے پاس ہر فرد کی نگرانی کا ایک مکمل ٹول موجود ہوگا، جو آزادی کو عملاً ختم کر سکتا ہے۔
🔍 2. ریاستی کنٹرول میں اضافہ:
اس نظام کو آسانی سے ان لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے جو حکومت پر تنقید کریں، یا اختلافِ رائے رکھیں۔ کسی کا موبائل بند، شناختی کارڈ بلاک یا بائیومیٹرک سسٹم میں رسائی ختم کر دینا اب محض ایک کلک کی بات ہوگی۔
🔍 3. ڈیٹا سیکیورٹی کا بحران:
پاکستان میں سرکاری اداروں کے ڈیٹا بیس پہلے ہی سائبر حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگر یہ مکمل ڈیجیٹل شناختی نظام ہیک ہو جائے، تو لاکھوں شہریوں کی معلومات بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو سکتی ہیں — اور اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔
🔍 4. جمہوری خطرات:
اس نظام کے ذریعے ایک ڈیجیٹل آمرانہ ریاست کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جہاں ہر قدم، ہر کال، ہر لین دین ریاست کی نظر میں ہو گا — اور آزادی صرف ایک خیال بن کر رہ جائے گی۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا قیام اگر شفافیت، عوامی مشاورت، ڈیٹا پروٹیکشن قوانین اور چیک اینڈ بیلنس کے بغیر کیا گیا، تو یہ سہولت کے بجائے ایک ڈیجیٹل جیل میں بدل سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نظام بن رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے چلائے گا کون، اور کس نیت سے؟




