ڈکی بھائی کا مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

“لاہور ایئرپورٹ پر معروف یوٹیوبر ‘ڈکی بھائی’ کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی”

مشہور یوٹیوبر ڈکی بھائی کو عدالت نے مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ وہ اس وقت مختلف نوعیت کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، جن کی تفتیش جاری ہے۔

کیمرے کے سامنے سوالات، انسانیت کہاں کھو گئی؟

عدالت سے باہر جب پولیس ملزم کو لے جا رہی تھی تو متعدد رپورٹرز اور افراد کیمروں کے ساتھ موجود تھے۔ کچھ لوگ بار بار سوال داغ رہے تھے، کچھ وڈیو بنا رہے تھے — لیکن کوئی لمحہ بھر کے لیے بھی یہ نہ سوچ سکا کہ وہ انسان جو سامنے کھڑا ہے، اس پر کیا گزر رہی ہوگی۔

سیلاب کے مناظر دُہرا رہے ہیں: مدد کی جگہ وڈیو؟

یہ مناظر ہمیں ان دردناک لمحوں کی یاد دلاتے ہیں جب سیلاب کے دوران لوگ پانی میں ڈوب رہے تھے اور اردگرد موجود افراد صرف موبائل کیمرے سے وڈیو بنانے میں مصروف تھے۔ جیسے ہم نے سیکھا ہی نہیں کہ کسی کی مصیبت کا تماشا نہ بنایا جائے۔

تماش بینی: ہم دوسروں کی تکلیف کیسے بڑھا دیتے ہیں؟

سوال یہ ہے کہ ہماری معاشرتی حساسیت کہاں چلی گئی ہے؟ جب کسی پر برا وقت آتا ہے، تو ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ ہم ایک بے حس تماشائی کیوں بن جاتے ہیں، جو نہ دلاسہ دیتا ہے، نہ خاموشی اختیار کرتا ہے، بلکہ کیمرہ آن کر کے دوسروں کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے۔

تکلیف کو تماشا نہ بنائیں: انسانیت کی بقا اسی میں ہے

کسی کا جرم ثابت ہونا یا نہ ہونا عدالتی معاملہ ہے، مگر بطور انسان ہمارا فرض ہے کہ کسی کی ذلت کا سبب نہ بنیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی یہ سیکھنا ہوگا کہ انسانیت کا احترام ہر چیز سے مقدم ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں